ملتان (سٹاف رپورٹر) جعلی کرنسی بنانے والوں نے پانچ ہزار روپے کے ایسے جعلی نوٹ تیار کر لئے ہیں جو بینکوں میں نصب مشینوں کے ذریعے بھی پکڑے نہیں جا رہے اور یہ جعلی نوٹ بینکوں میں نصب مخصوص روشنی والے سکینرز سے ہی شناخت کر کے علیحدہ کئے جا سکتے ہیں۔ ملتان میں ظفر ایسوسی ایٹس نامی کنسٹرکشن کمپنی کی طرف سے ماڈل ٹاؤن کی یونائیٹڈ بینک کی برانچ میں ساڑھے تین لاکھ روپے کا چیک کیش کروانے کے لیے بھیجا گیا جس پر پانچ پانچ ہزار کے نوٹوں والی کاپی میں سے 70 نوٹ نکال کر کمپنی کے معظم نامی کیشیئر کے حوالے کر دیئے گئے جن میں سے ایک نوٹ پر بینک الفلاح کی تصدیق کی مہر بھی لگی ہوئی تھی۔ یہ تمام نوٹ جو کہ پانچ پانچ ہزار پر مشتمل تھے بینک میں نصب مشین کے ذریعے گن کر کیشیئر معظم کے حوالے کئے گئے کیونکہ انہوں نے ساڑھے چار لاکھ روپیہ بل کی مد میں گلگشت کالونی کے ڈاکخانے میں جمع کروانا تھا کیونکہ بینک تو بند ہو جاتے ہیں مگر ڈاک خانے دیر تک کھلے رہنے کی وجہ سے بعض لوگ ڈاک خانے میں بل جمع کرواتے ہیں۔ مذکورہ بلڈر ظفر ایسوسی ایٹس کے معظم نامی کیشیئر نے جب بل اور رقم ڈاکخانے میں جمع کروائی تو نوٹ گننے والی مشین نے پہلے تو ساری رقم کو اوکے کر دیا مگر بعد میں جب اس رقم کو گرین لیزر لائٹ کے نیچے سے گزارا گیا تو پانچ ہزار کا ایک نوٹ جس پر بینک الفلاح کی مہر لگی ہوئی تھی اور یہ ثابت کر رہی تھی کہ مذکورہ نوٹ بینک الفلاح کے سسٹم سے نکل کر آیا ہے، جعلی ثابت ہوا۔ ڈاک خانے کے عملے نے بتایا کہ پانچ ہزار والے اس نوٹ کے اندر جو تار لگی ہوئی ہے اس میں انتہائی معمولی فرق ہے جس سے یہ نوٹ جعلی ثابت ہوا ہے پھر ڈاک خانے کے عملے نے مذکورہ نوٹ کو اپنے طریقے سے پھاڑا تو کاغذ کی دو پرتیں سامنے آ گئیں جن میں تار چسپاں کی گئی تھی اور یہ جعلی نوٹ اصلی نوٹ سے اتنی زیادہ مماثلت رکھتا تھا کہ دو مرتبہ تو مذکورہ کیشیئر کی موجودگی میں مشین سے با آسانی گزر گیا مگر تیسری مرتبہ لیزر سے معلوم ہوا کہ یہ نوٹ جعلی ہے۔ ڈاک خانے کے عملے نے بتایا کہ یہ نوٹ اصلی نوٹ سے بہت زیادہ مماثلت رکھتا ہے اس لیے عام دکاندار کے لیے اسے پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اور صرف لیزر مشین سے اسے پکڑا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ جعلی کرنسی کے حوالے سے ملتان میں پہلے بھی اس قسم کی شکایات سامنے آچکی ہیں اور چند ماہ قبل ایک بینک سے ایک ایک ہزار کے چھ نوٹ ایک نوٹ کی کاپی میں سے جعلی نکل آئے تھے مگر چونکہ ان پر مہر نہیں تھی لہٰذابینک کے عملے نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ یہ نوٹ اسی کاپی میں سے نکلے ہیں جو بینک کی طرف سے فراہم کی گئی مگر حیران کن طور پر اس پانچ ہزار کے نوٹ پر بینک کی مہر نے اس سارے گھناؤنے دھندے کی قلعی کھول دی جو جعلی نوٹ بنانے والے منظم طریقے سے چلا رہے ہیں۔







