ملتان ( سٹاف رپورٹر ) ملتان میں میونسپل کارپور یشن کے بعض اہلکار قانون سے بالاتر ہو کر ریاست کے اندر ریاست بن گئے۔ تعمیرات کے دوران مبینہ رشوت نہ دینے کی پاداش میں ایک شہری کے ڈرائیور کو سرِعام بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لوٹا گیا اور بعد ازاں اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے جایا گیاجبکہ پولیس تماشائی بنی رہی۔ ذرائع کے مطابق سنٹرل جیل چوک ملتان کے رہائشی اور پیشہ کے اعتبار سے وکیل بلال بھٹہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت میں درخواست دائر کی ہےجس میں انکشاف کیا گیا کہ 21 جنوری 2026 کو ان کے زیرِ تعمیر مکان پر میونسپل کارپوریشن ملتان کے ملازمین نے دھاوا بول دیا۔ درخواست کے مطابق ندیم نواز (انسپکٹر)، منیر احمد ترک، الیاس قریشی، رئوف گیلانی، اقبال خان (CO) اور 8 سے 15 نامعلوم افراد نے تعمیراتی نقشے کا بہانہ بنا کر موقع پر موجود ڈرائیور محمد شاہد کوتشددکا نشانہ بنایا۔ نقشہ فوری طور پر پیش نہ کیے جانے پر پہلے تھپڑ مارا گیا، پھر لوہے کی راڈ سے کان اور کلائی پر وار کر کے لہولہان کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق تشدد یہاں ختم نہ ہوابلکہ اہلکاروں نے ڈرائیور کو لاتوں، مکوں اور آہنی راڈز سے مارا، جیب سے 1 لاکھ 50 ہزار روپے نقد نکالے اور زبردستی سرکاری نمبر والی گاڑی میں ڈال کر اغوا کر لیا۔ شور سن کر اہلِ علاقہ جمع ہو گئے اور تعاقب کرنے پر ملزمان ڈرائیور کو چوک شاہ عباس کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔ درخواست میں سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ تمام کارروائی رشوت نہ دینے کے انتقام میں کی گئی۔ ندیم نواز نے مبینہ طور پر تعمیرات کے عوض رشوت طلب کی، انکار پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غنڈہ گردی کی گئی۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ واقعے کے بعد متاثرہ فریق جب تھانہ شاہ شمس پہنچا تو SHO نے ملزمان کے نام دیکھتے ہی درخواست لینے سے انکار کر دیا اور FIR درج کرنے سے صاف انکاری ہو گیا جو پولیس کی جانبداری اور طاقتور مافیا کے آگے بے بسی کا واضح ثبوت ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ملزمان کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، اسی لیے وہ بلاخوف و خطر شہریوں کی تذلیل، تشدد اور لوٹ مار کر رہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں کو شہریوں کو اغوا کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ کیا رشوت نہ دینا جرم بن چکا ہے؟ اور کیا پولیس طاقتور سرکاری مافیا کے سامنے مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے؟ متاثرہ شہری نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ SHO کو فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے اور لوٹی گئی رقم برآمد کروا کر انصاف فراہم کیا جائے۔ یہ واقعہ نہ صرف میونسپل کارپوریشن ملتان کی غنڈہ گردی کا کھلا ثبوت ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو کل ہر شہری اسی بدمعاشی کا نشانہ بن سکتا ہے۔







