ملتان: مرغی ذبح میں تاخیر، پیرا فورس نے دکاندار پر “چھری” پھیر دی، 20 ہزار جرمانہ

ملتان (سپیشل رپورٹر) شہر میں پیرا فورس کے اہلکاروں کی مبینہ من مانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا ہے جہاں ایک غریب مرغی فروش کو صرف اس’’قصور‘‘پر بھاری جرمانے اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا کہ اس نے پیرا فورس کے ڈرائیور کی مرغی چند منٹ تاخیر سے ذبح کرنے کی درخواست کر دی تھی۔ متاثرہ دکاندار کے مطابق چند روز قبل پیرا فورس کا ڈرائیور عامر اس کی دکان پر دیسی مرغی خریدنے آیا۔ دکاندار کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت پہلے سے موجود گاہکوں کے آرڈر پورے کر رہا تھا اور تقریباً آٹھ سے دس مرغیاں ذبح کر کے تیار کر رہا تھا۔ اسی دوران ڈرائیور عامر تقریباً پندرہ سے بیس منٹ تک دکان پر بیٹھارہا اور فون پر مصروف رہا۔دکاندار کے مطابق جب ان کی باری آئی تو اس نے انتہائی ادب سے صرف دو منٹ انتظار کی درخواست کی تاکہ پہلے سے موجود گاہکوں کا آرڈر مکمل کر کے ان کی مرغی ذبح کر دے۔ تاہم یہ معمولی سی بات پیرا فورس کے ڈرائیور کو ناگوار گزری اور وہ شدید غصے میں دکان چھوڑ کر چلے گئے۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اہلکار تقریباً 4200 روپے مالیت کی ذبح شدہ دیسی مرغی بھی وہیں چھوڑ گئے اور کچھ ہی دیر بعد مبینہ طور پر پیرا فورس کی سرکاری گاڑی دکان پر پہنچ گئی جس میں عمران نامی اہلکار سمیت تین چار ملازمین موجود تھے۔ دکاندار کے مطابق اہلکاروں نے آتے ہی دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اوپر سے حکم آیا ہے، آپ کا 20 ہزار روپے کا چالان کیا جا رہا ہے، ورنہ گاڑی میں بیٹھیں اور پرچہ درج کروایا جائے گا۔ غریب مرغی فروش کا کہنا ہے کہ اس نے جب چالان کی وجہ پوچھی تو پہلے تو کوئی واضح جواب نہ دیا گیا، بعد ازاں یہ جواز پیش کیا گیا کہ دکان پر ریٹ لسٹ موجود نہیں ہے اور قیمتیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں۔ دکاندار کے مطابق دیسی مرغی اور دیسی انڈوں کی اکثر جگہوں پر کوئی سرکاری ریٹ لسٹ موجود نہیں ہوتی، اس کے باوجود اس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔ متاثرہ دکاندار کا کہنا ہے کہ اس کی ماہانہ آمدن اتنی نہیں جتنی رقم کا چالان کر دیا گیا۔ اس نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں، ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ جرمانہ بھریں، بچوں کے کپڑے خریدیں، گھر کا کرایہ دیں یا دکان چلائیں۔ صرف چند منٹ کی تاخیر پر ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ شہری حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک ڈرائیور کی ناراضی پر سرکاری گاڑی اور عملہ حرکت میں آ سکتا ہے تو عام شہری کہاں جائیں؟ کیا سرکاری اختیارات ذاتی انا اور رنجش نکالنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے؟ متاثرہ دکاندار نے کمشنر ملتان اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، بھاری جرمانہ ختم کیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ غریب محنت کشوں کو سرکاری طاقت کے ذریعے ہراساں نہ کیا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو انتظامیہ اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں