ملتان (عوامی رپورٹر) پرانا شجاع آباد روڈ پر واقع کمرشل زمین پر مختلف پارٹیوں سے معاہدے کر کے لاکھوں روپے ایڈوانس بیعانہ کی مد میں وصول کر کے جعل سازی کرنے والے ایک ہی فیملی پر مشتمل 10 رکنی گروہ مالکان نے اپنے ایک رکن کو جعلی ذہنی مریض قرار دے کر یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہم تو مانتے ہیں اور رجسٹری کرانے کو تیار ہیں مگر ہمارا ایک رکن نہیں مانتا۔ ایک ہی خاندان پر مشتمل یہ دس رکنی مالکان اب تک تین کاروباری پارٹیوں کو دھوکہ دے کر انہیں لاکھوں روپے لے کر ہضم کر چکے ہیں۔ اس گروہ کی سرپرستی چوک کمہاراں والا میں نجی کلینک چلانے والے ڈاکٹر پرویز ملک کر رہے ہیں جبکہ دیگر فروخت کا معاہدہ کرنے والوں میں خالد مصطفیٰ، خالدہ پروین، عثمان احمد، محمد یحییٰ ملک، ساجدہ ملک، شکیلہ ملک، آمنہ اعظم، مومنہ ملک اور شفق ملک شامل ہیں۔ یہ گروہ پرانا شجاع آباد روڈ پر قصر نور مارکی نامی شادی ہال کے مالکان ہیں اور سات کنال سات مرلے پر مشتمل اس کمرشل اراضی کو گزشتہ چند سال کے دوران تین مختلف کاروباری پارٹیوں سے فروخت کا معاہدہ کرکے ان سے لاکھوں روپے اینٹھ چکے ہیں اور ایڈوانس میں لی گئی لاکھوں روپے کی رقم حاصل کرنے کے بعد یہ گروہ مختلف بہانوں سے معاہدے کرنے والوں پر مقدمات کر دیتاہے اور اس مقصد کے لیے بعض اوقات عورتوں کو استعمال کرکے جعلی اور بے بنیاد مقدمات میں درج کروا رہے ہیں۔ روزنامہ قوم کے دفتر میں ساجد شامی نامی ایک شخص نے تمام ریکارڈ لے کر تفصیلات بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ کارروائی سے باز رکھنے کے لیے ڈاکٹر پرویز ملک نے شکیلہ نامی ایک عورت کو جسے وہ جانتے بھی نہیں، پیسے دے کر تھانہ دہلی گیٹ میں ان کے خلاف مقدمہ نمبر 635/25 درج کروا رکھا ہے جسے پولیس نے بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ ساجد شامی نے بتایا کہ 15 فروری 2025 کو ان کے ذریعے ڈاکٹر پرویز ملک اور ان کے خاندان نے قصر نور مارکی نامی پرانا شجاع آباد روڈ پر واقع کمرشل اراضی پر سکائی لائٹ آرکیڈ کے نام سے ایک کمرشل پلازہ تعمیر کرنے کا ہم سے معاہدہ کیا اور اس مد میں 65 لاکھ روپے کی رقم ان 10 پارٹنرز نے اپنے اپنے حصے کے مطابق وصول کر لی جبکہ معاہدہ کرنے والی دوسری پارٹی ایف سی آئی انٹرنیشنل نے معاہدہ کے مطابق رقم ادا کرنے کے بعد مذکورہ اراضی پر پلازہ کی تعمیر کے لیے ڈیزائن بنوا کر اس کی منظوری کے لیے پراسس شروع کروا دیا اور اس تمام کام پر تقریباً 60 لاکھ روپے خرچ کر دیئے۔ اس دوران ڈاکٹر پرویز ملک نے اچانک معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور پیسے بھی ہضم کر لیے جبکہ اس سارے معاملات کی سرکاری اداروں میں پیروی کرنے والے ساجد شامی کے خلاف ایک عورت کو تیار کرکے چھیڑ خانی کا مقدمہ درج کروا دیا۔ ساجد شامی کے مطابق اس 10 رکنی گروہ نے از خود ڈاکٹر پرویز ملک کے لیے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوا رکھے ہیں جن کو ذہنی مریض ظاہر کرکے معاہدے سے مکرنے کا سارا ملبہ ان پر ڈال دیتے ہیں حالانکہ کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس ڈاکٹر جو کہ روزانہ درجوں مریض دیکھتا ہے، اگر وہ واقعی ذہنی مریض ہےیہ تو مریضوں کے لیے خطرے کی علامت ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر وہ حقیقت میں ذہنی مریض ہیں تو محکمہ ہیلتھ اس طرح کے ذہنی مریض کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہا۔ اس گروہ کے سرپرست تفتیشی افسران پر کھلے عام کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں معاملات سے علیحدہ کر دیتے ہیں اور مختلف لوگوں کی ایڈوانس کی مد میں حاصل کی گئی رقوم بھی ہضم کر جاتے ہیں۔
