ملتان سونے کی جعلی اینٹیں صراف رہنماء بھی ملوث ،جنوبی پنجاب بھر سے مسروقہ مال کی خریداری

ملتان سونے کی جعلی اینٹیں صراف رہنماء بھی ملوث ،جنوبی پنجاب بھر سے مسروقہ مال کی خریداری

ملتان(سٹاف رپورٹر)صرافہ بازار ملتان میں 10 تولے سونے کی اینٹیں جنہیں پیس بھی کہا جاتا ہے میں ملاوٹ کر کے جعلی اینٹیں بنا کر فروخت کرنے والوں میں اس بازار
کی تاجر یونین کے بعض لوگ بھی شامل ہیں جو چوری شدہ سونا بھی خریدتے ہیں اور سونے کی ڈھلائی کر کے معروف برانڈز کی مہر لگا کر دو سے تین فیصد ملاوٹ کر کے فروخت کرتے ہیں ۔انہوں نے معروف ملکی وغیر ملکی برانڈ زکے سانچے از خود تیار کروا رکھے ہیں جس میں تقریباً30 لاکھ روپے مالیت کی ایک اینٹ میں 70 ہزار سے سوا لاکھ روپے کی ملاوٹ کرنے والے اچھے تاجر کہلواتے ہیں ورنہ ملتان میں تو ملاوٹی سونا بہت زیادہ تیار ہو رہا ہے۔ صرافہ بازار ملتان کے بعض تاجر از خود جرائم پیشہ افراد کو جہاں مخبریاں کرتے ہیں وہیں پر چوری شدہ مال خریدنے کے لیے ان کے ایجنٹ بھی پورے جنوبی پنجاب میں کام کر رہے ہیں اور تمام تر معلومات ہونے کے باوجود پولیس ان پر ہاتھ نہیں ڈالتی بلکہ ایک مصدقہ ذریعہ نے یہاں تک بتایا کہ پولیس اس لئے ہاتھ نہیں ڈالتی کہ از خود بعض پولیس ملازم بھی برآمدشدہ چوری کا سونا مالکان کو واپس کرنے کے بجائے انہی کو فروخت کر دیتے ہیں اور بہت مجبوری آڑے آ جائے تو بھی سونا واپس نہیں ملتا البتہ 50 سے 60 فیصد نقد ریکوری کرا دی جاتی ہے۔ ماضی میں سلیم کنڈے والا جو کہ متعدد جرائم میں ملوث تھا ایک قتل میں جو کہ ضلع جھنگ کی حدود میں ہوا تھا میں ملوث ثابت ہونے کے بعد ملتان چھوڑ کر لاہور شفٹ ہو گیا تھا۔22 سال قبل اس کے گھر ایک سرکاری ادارے نے چھاپہ مار کر 53 کروڑ روپے نقد رقم برآمد کی تھی مگر ریکارڈ پر صرف9 کروڑ ظاہر کیا گیا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں