ملتان سمیت پنجاب کی جیلوں میں کرپشن، خفیہ مانیٹرنگ، افسران و اہلکاروں کی فہرستیں تیار

ملتان (شیخ نعیم سے)عیدالفطر کے بعد حکومتِ پنجاب نے ملتان سمیت صوبے بھر کی جیلوں میں کرپشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کا نوٹس لیتے ہوئے جامع اور سخت اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خفیہ مانیٹرنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت جیلوں میں تعینات ایسے افسران و اہلکاروں کی فہرستیں تیار کی جائیں گی جو مبینہ طور پربدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جیل قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض جیلوں میں ایسے افسران بھی بدستور اہم عہدوں پر تعینات ہیں جن کے خلاف ماضی میں بھی کرپشن سے متعلق متعدد شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ اثر و رسوخ کے باعث اہم نشستوں پر براجمان ہیں۔ اب حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ ایسے افسران کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کے کیسز کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔اسی طرح یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ جیلوں میں کلریکل سٹاف اور دیگر اہلکار طویل عرصے سے ایک ہی سیٹ پر تعینات رہ کر مبینہ طور پر لین دین کے ذریعے اپنے تقرر کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کرپشن کے مختلف معاملات میں ملوث ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے افسران و اہلکاروں کے تبادلوں کو ایک باقاعدہ پالیسی کے تحت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ایک ہی جگہ طویل تعیناتی کے باعث پیدا ہونے والے مفادات کے ٹکراؤ اور بدعنوانی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق جیلوں کے اندر قیدیوں سے مبینہ رشوت خوری، موبائل فون تک غیر قانونی رسائی،منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی سپلائی جیسے سنگین معاملات میں بعض نچلے درجے کےاہلکاروں کے ملوث ہونے کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ ان الزامات کے پیش نظر ایسے عناصر کی سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی اہلکار کے خلاف شواہد ملنے پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پہلے ہی جیلوں میں مانیٹرنگ کے عمل کو تیز کیا جا چکا ہے۔ بالخصوص ماہِ رمضان کے دوران مختلف ریجنز کے ڈی آئی جیز اور سپرنٹنڈنٹس نے جیلوں کے دورے کر کے قیدیوں کے لیے سحری و افطاری کے کھانوں سمیت دیگر سہولیات کا جائزہ لیا، تاہم ذرائع کے مطابق ان اقدامات کے باوجود بعض مقامات پر بدعنوانی کے واقعات مکمل طور پر ختم نہ ہو سکے۔ذرائع کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے واضح اور سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کوئی بھی جیل ملازم، خواہ وہ افسر ہو یا اہلکار، جیلوں کے اندر کسی بھی قسم کی سامان کی سپلائی میں ملوث نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جیلوں کو غیر معیاری یا ناقص سامان فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے- تاکہ قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدامات کا مقصد جیلوں کے نظام کو شفاف بنانا، قیدیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام کی سطح پر مانیٹرنگ کو مزید سخت کیا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ افسران کو باقاعدگی سے رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا بدعنوانی کو بروقت روکا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں