ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال کی خدمات اور صحت کے چیلنجز ملتان اور جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال، نشتر ہسپتال، واقعی ماں کی گود کی طرح ہے۔ یہ نہ صرف ملتان بلکہ پورے جنوبی پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے کونوں سے آنے والے غریب اور سفید پوش مریضوں کا سب سے بڑا سہارا ہے۔رپورٹ کے مطابق، 2025 کے پہلے 11 ماہ (تقریباً 330 دن) میں نشتر ہسپتال نے 21 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا، جن میں روزانہ اوسطاً 6600 مریض شامل تھے۔ اس دوران 37149 کامیاب آپریشن کیے گئے، جو ہسپتال کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس، نرسز اور ریسکیو 1122 کی محنت کا ثبوت ہے۔لیکن یہ اعدادوشمار ایک تلخ حقیقت بھی سامنے لاتے ہیں اسی عرصے میں 11100 اموات ہوئیں، یعنی روزانہ تقریباً 33 ہلاکتیں۔ یہ اعداد رونگٹے کھڑے کر دینے والے ضرور ہیںمگر یہ ہسپتال کی ناکامی نہیں بلکہ علاقے میں بیماریوں کی شدت اور دیر سے علاج کی تلاش کی عکاسی کرتے ہیں۔ نشتر ہسپتال ایک ٹرشری کیئر ہسپتال ہے، جہاں چھوٹی موٹی بیماریوں کے بجائے زندگی اور موت کی کشمکش والے سنگین کیسز لائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر مریض غریب ہوتے ہیں جو پرائیویٹ ہسپتالوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے، اور جب حالت نازک ہو جاتی ہے تب نشتر کا رخ کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز کسی کو واپس نہیں کرتے، چاہے مریض کسی بھی ضلع یا صوبے سے ہو۔ملتان اور جنوبی پنجاب میں صحت کے مسائل شدید ہیںجو نشتر ہسپتال پر بوجھ بڑھاتے ہیں۔ 2025 میں یہاں کچھ نمایاں بیماریاں اور چیلنجز سامنے آئے:ڈینگی بخار کا پھیلاؤ نومبر 2025 میں ڈینگی کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا، ہسپتالوں کے وارڈز بھر گئے۔ ملتان اور فیصل آباد سب سے زیادہ متاثر۔ ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور دیگر انفیکشنز: گندے پانی، ناقص صفائی اور ڈائلیسز جیسی سہولیات میں مسائل کی وجہ سے انفیکشنز پھیل رہے ہیں۔ نشتر ہسپتال کے ڈائلیسز یونٹ میں ماضی میں ایچ آئی وی کیسز بھی سامنے آئے، جو غفلت کا نتیجہ تھے۔ مواصلاتی بیماریاں (این سی ڈیز) پاکستان میں اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ دل کے دورے، سٹروک اور کینسر کے کیسز بڑھتے جا رہے ہیں، خاص طور پر غریب علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں گندے پانی اور ناقص سیوریج کی وجہ سے ڈائریا، ملیریا اور جلدی امراض عام ہیں۔ 2025 کی بارشوں اور سیلابوں نے ملیریا اور جلدی انفیکشنز کو مزید بڑھایا۔ دسمبر 2025 میں ایک ڈاکٹر کی جانب سے مریض کے لواحقین سے بدتمیزی کا ویڈیو وائرل ہوا، جس پر ڈاکٹر کو برطرف کر دیا گیا۔ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ دباؤ میں کچھ غلطیاں ہو جاتی ہیں، مگر ایک نادان کی حرکت سے پورے ادارے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔نشتر ہسپتال پر تنقید ہوتی ہے، مگر یہ ادارہ نشتر 2 کی کمیوں کو بھی برداشت کر رہا ہے اور علاقے کی صحت کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ ایک غلطی پر پورے معاشرے کا انگلی اٹھانا غلط ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور عملے کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال ملتان میں سہولیات بڑھائی جائیں تاکہ اموات کی شرح کم ہو اور مزید جانیں بچائی جا سکیں۔







