ملتان(سٹاف رپورٹر)جنوبی پنجاب کا ہیڈ کوارٹر ملتان ملک بھر میں سمگل شدہ اشیاکا سب سے بڑا گڑھ بن گیا اور ملک کے وسط میں واقع ہونے کے ناطے تمام بڑے سمگلروں کی سب سے بڑی آماجگاہ اورمک مکا پوائنٹ گزشتہ دو دہائیوں سے ملتان ہی قرار پا چکا ہے۔ اس وقت ملک بھر کے آئل مافیا کا سب سے بڑا گڑ ھ ملتان ہے اور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان حتیٰ کہ اپر کو بھی ملتان سے بیٹھ کر سپلائی دے رہا ہے۔ ان سمگلروں کو سرکاری اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس وقت ڈیزل ،پٹرول اور سالونٹ کےسب سے بڑے چار ڈیلر ہیں جن میں شبو ہمبڑ، شاہد سنیارا، عباس ارائیں اور خواجہ علی شامل ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر کو خط کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ شبو ہمبڑ 50 ملین روپے ماہانہ جو کہ پانچ کروڑ روپے بنتا ہے ہر ماہ کسٹم سمیت تمام متعلقہ افسران کو ملک بھر سے اکٹھی کر کے منتھلی پہنچاتا ہے اور سرکاری اداروں کیلئے اکیلے ایک ہی شخص سے ڈیل کر کے خاصی آسانی پیدا ہو رہی ہے ۔مذکورہ خط کی جوابی تصدیق کرائی گئی تو دی گئی معلومات حرف بحرف درست ثابت ہوئی جس پر سابقہ حکومت میں خاتون اول کی فرنٹ مین فرح گوگی کا ایک قریبی رشتہ دار ڈاکٹر علی ممتاز بھی سمگلروں کی سہولت کاری میں شامل تھا اسے محض ٹرانسفر کیا گیا اور باقی ہر قسم کی کارروائی رک گئی۔ اسی طرح کسٹم انٹیلی جنس لاہور میں تعینات ایڈیشنل کلیکٹر رضوان بشیراور کراچی میں تعینات ایڈیشنل کلیکٹر کسٹم انٹیلی جنس عاقب سعید بھی سمگلروں کی سہولت کاری میں ملوث تھے۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل شبو ہمبڑ کو تحقیقاتی اداروں نے حراست میں لے لیا تھا اور وہ 30 دن تک منظر سے غائب رہا جس کے بعد یہ گمان کیا جاتا تھا کہ اس مرتبہ شبو ہمبڑ پر سخت ہاتھ دھرا ہے شاید وہ سمگلنگ کا دھندا جاری نہ رکھ سکے مگر حیران کن طور پر اس نے منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف کھل کر کھیلنا شروع کر دیا بلکہ دیگر سمگلروں سے منتھلی اکٹھی کرنے کی ذمہ داری بھی سنبھال لی اور اس طرح رہائی کے بعد شبو ہمبڑ اب محفوظ ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی انتہائی توجہ طلب ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے رشوت اور منتھلی کی ہیئت تبدیل ہو گئی ہے اور پاکستان کی کرنسی ڈی ویلیو ہونے ،بینکنگ نظام سخت ہونے کے بعد منتھلی سونے کی اینٹوں کی شکل میں دی اور لی جا رہی ہے اور پاکستان میں تحقیقات متعلقہ اداروں کے افسران کا اپنی ہی کرنسی سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔






