ملتان ( سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں انتظامی شفافیت پر سنگین سوالات اس وقت کھڑے ہو گئے جب وائس چانسلر کی جانب سے سینڈیکیٹ کے ایک اہم ایجنڈا آئٹم کو مبینہ طور پر ’’اپنی مرضی‘‘سے ختم کرنے اور بعد ازاں عدالت میں متضاد مؤقف اپنانے کا انکشاف سامنے آ گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف انتظامی بدعنوانی بلکہ ممکنہ طور پر عدالت کو گمراہ کرنے کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے اجلاس میں ایک ملازم کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم متعلقہ ملازم نے بروقت لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا جس کے بعد اس نے توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد اچانک انتظامیہ کا رویہ تبدیل ہو گیا اور وائس چانسلر نے پسِ پردہ معاملات’’ٹھیک‘‘کرنے کے لیے مذکورہ ملازم سے رابطے کیے اور مطالبہ کیا گیا کہ وہ توہین عدالت کی درخواست واپس لے لےجس کے بدلے میں انتظامیہ نرمی اختیار کرے گی۔ حیران کن طور پر پرو وائس چانسلر نے اپنی مدتِ ملازمت ختم ہونے سے محض تین دن قبل ایک آفس آرڈر تیار کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سینڈیکیٹ کے مذکورہ ایجنڈا آئٹم کو نہ صرف ختم (quash) کر دیا گیا ہے بلکہ آئندہ اسے نہ سینڈیکیٹ میں پیش کیا جائے گا اور نہ ہی ملازم کی ذاتی فائل کا حصہ بنایا جائے گا۔ تاہم اس آرڈر پر دستخط کرنے کے بجائے اسے’’لیگل ایڈوائس‘‘کے لیے یونیورسٹی کے قانونی مشیر کو بھیج دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اصل تنازعہ یہیں سے جنم لیتا ہے۔ مبینہ طور پر یہی غیر دستخط شدہ لیٹر عدالت میں بطور حتمی فیصلہ پیش کر دیا گیا اور یونیورسٹی کے قانونی نمائندے نے عدالت کو یہ باور کروایا کہ ایجنڈا مکمل طور پر واپس لے لیا گیا ہے، جس کے باعث توہین عدالت کی درخواست اب غیر مؤثرہو چکی ہے۔ نتیجتاً عدالت نے کیس نمٹا دیا۔ تاہم اندرونی دستاویزات اور ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایجنڈا آئٹم کو باقاعدہ طور پر نہ تو سنڈیکیٹ سے واپس لیا گیا اور نہ ہی اس پر کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا بلکہ محض قانونی رائے طلب کی گئی تھی۔ یوں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالت کو ادھوری یا گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یہ معاملہ نہایت سنگین نوعیت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ عدالت کو گمراہ کرنا خود ایک قابلِ گرفت جرم ہے۔ مزید برآں یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا وائس چانسلر کو سنڈیکیٹ کے اجتماعی فیصلے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اختیار حاصل بھی تھا یا نہیں۔ تعلیمی حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔







