بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈویژن میں اعلیٰ سطح تبادلوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین احکامات کے تحت نئے تعینات ہونے والے ڈی ای این تھری مسٹر حاجی محمد کو بھی تبدیل کر دیا گیاجبکہ حیران کن طور پر ریلوے کی حساس ترین برانچ پراپرٹی اینڈ لینڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا تبادلہ تاحال نہ ہو سکا۔ 6 فروری 2026 کو جاری ہونے والے آرڈر نمبر/2/-E/5/ اے پی او کے تحت، چیف پرسنل آفیسر ہیڈ کوارٹر لاہور کی منظوری سے ڈپٹی چیف پرسنل آفیسر محمد قاسم نے بڑے پیمانے پر تبادلوں کے احکامات جاری کئے۔ مطین احمد خان کو ڈی ای این ون ملتان تعینات کر دیا گیا، جبکہ ریحان صابر کو سی پی او آفس لاہور رپورٹ کرنے کے احکامات دیئے گئے۔ اسی طرح جمشید علی کو ڈی ای این تھری ملتان، رملہ شاید کو ڈی پی او کا اضافی چارج سونپ دیا گیا، جبکہ نبیلہ اسلم کو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔تاہم ان وسیع پیمانے پر تبادلوں کے باوجود ریلوے پراپرٹی اینڈ لینڈ برانچ میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر کا تبادلہ نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریلوے اراضی پر قبضوں، منتھلیوں اور غیر قانونی کرایہ داری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مختلف سٹیشنوں پر ریلوے کوارٹروں اور سرکاری اراضی پر کباڑیوں کی دکانیں قائم ہیں، جبکہ پاکپتن تا لودھراں سیکشن میں ریلوے زمین پر عارضی تھڑے اور تجاوزات لگوا کر مبینہ طور پر غیر قانونی کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف متعدد شوکاز نوٹسز بھی جاری ہو چکے ہیں۔ ایک انسپکٹر آف ورکس کے خلاف تین سالہ پروموشن پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے، اس کے باوجود انہیں ہوم سٹیشن پر تعینات رکھا گیا ہے، جو کہ محکمانہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس سنگین معاملے پر تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔عوامی و سماجی حلقوں نے سی ای او ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ افسران کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ کارروائی کی جائے، فوری تبادلے عمل میں لائے جائیں اور ریلوے اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کروایا جائے، تاکہ قومی ادارے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ریلوے انسپکٹرآف ورک سے اس بابت موقف لیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس سے قبل بھی میرے خلاف انکوائریاں ہو چکی ہیں اور میں ان میں کلیئر ہو چکا ہوں قبضوں کے متعلق میرے علم میں نہیں ہے۔







