تازہ ترین

ملتان ریلوے ڈویژن، کرپشن کا نیٹ ورک مضبوط، ملازمین سے بھتہ وصولی

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈویژن کے قطب پور سیکشن میں مبینہ طور پر کرپشن کا ایک منظم نیٹ ورک برسوں سے سرگرم ہے، جس میں پی ڈبلیو آئی الطاف اور ان کے زیرِ ماتحت اے ڈبلیو آئی مولوی عبدالغفار مرکزی کردار بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے مختلف ریلوے ملازمین سے ماہانہ بھتہ وصول کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر عالم جمالی، جو گینگ نمبر 8 جہانیاں تاٹبی لکی تک کے ایریا پر تعینات ھے، موٹرسائیکل پر گشت کرتا ھے مولوی عبدالغفار کے ساتھ ملی بھگت میں مبینہ بھتہ وصولی میں سرگرم رہتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ڈبلیو ائی الطاف کے زیرِ کنٹرول 80 سے 90 کلومیٹر پر مشتمل لودھراں تا خانیوال سیکشن میں کل 22 گینگ ہیں، جن میں سے سات گینگ براہِ راست مولوی عبدالغفار کے زیرِ اثر بتائے جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق گیٹ مینوں سے ماہانہ 3 ہزار روپے جبکہ کی مینوں سے 2 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جس میں ٹی ایل اے اور مستقل ملازمین دونوں شامل ہیں۔ مزید انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ بعض ملازمین کو سرکاری ڈیوٹی سے ریلیف دے کر پرائیویٹ کاروبار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جس کے عوض ان سے ماہانہ منتھلی لی جاتی ہے۔الزامات کے مطابق ٹی ایل اے ملازمین سے 37 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ہے جس سے 20 ہزار روپے لے کر پرائیویٹ کاروبار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جن میں سے مبینہ طور پر ایک حصہ پی ڈبلیو ائی تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ باقی رقم کے عوض ملازمین کو پرائیویٹ کام کی کھلی اجازت دی جاتی ہے۔ قواعد و ضوابط کے برعکس ٹی ایل اے ملازمین کی لازمی غیر حاضری لگانے کے بجائے انہیں مسلسل 30 روز کام کروایا جاتا ہے، جبکہ ریکارڈ میں غیر حاضری ظاہر کی جاتی ہے، حتیٰ کہ غیر حاضری کے دنوں میں بھی ان سے کام لیا جاتا ہے۔ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ملتان ڈویژن میں گھوسٹ ملازمین کے نام پر تنخواہیں ظاہر کر کے ان سے کٹوتی کی جاتی ہے اور انہیں پرائیویٹ کاروبار میں لگا کر ماہانہ حصہ وصول کیا جاتا ہے۔ محمد عامر نامی اے ڈبلیو آئی افسر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے لودھراں تا جہانیاں ایریا میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر رکھا ہے، جبکہ مولوی عبدالغفار نے جہانیاں سے خانیوال تک مبینہ طور پر گرفت مضبوط کر کے “ماہانہ اعلیٰ افسران” کے نام پر بھتہ وصولی کا نظام بنا رکھا ہے۔ریلوے ملازمین اور سٹاف حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، کیونکہ یہ مبینہ کرپشن نہ صرف ادارے کو مالی نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ محنتی ملازمین کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے پی ڈبلیو آئی الطاف اور اے ڈبلیو آئی مولوی عبدالغفار سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم خبر فائل ہونے تک کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں