ملتان ریلوے ڈویژن، غیر قانونی ٹھیکوں اور فنڈز میں خورد برد پر انکوائری

بہاولپور( ڈسٹرکٹ رپورٹر) ملتان ریلوے ڈویژن میں مبینہ طور پر غیر قانونی ٹھیکوں اور سرکاری فنڈز میں خرد برد کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی ہے۔ کوٹ ادو کے رہائشی ظفر اقبال ولد رب نواز کی درخواست پر سرکل ایف آئی اے ملتان میں انکوائری نمبر44/26 اے سی سی درج کر لی گئی ہے جس میں سابق ڈی ای این ٹو ریحان صابر، ال شریف کنسٹرکشن کمپنی ملتان اور ریلوے کے دیگر ملازمین کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق درخواست گزار ظفر اقبال نے موقف اختیار کیا کہ مالی سال 2022-23 میں ریلوے سب ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے تحت ایک ترقیاتی ٹینڈر جاری کیا گیا جس کی اصل مالیت 1 کروڑ 54 لاکھ 95 ہزار 262 روپے تھی۔ الزام ہے کہ مبینہ ملی بھگت کے ذریعے اس ٹینڈر کی رقم بڑھا کر 1 کروڑ 84 لاکھ 15 ہزار 42 روپے کر دی گئی۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار اور بعض ریلوے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ٹینڈر کے بیشتر کام ٹھیکیدار کی بجائے ریلوے کے سرکاری ملازمین سے کروائے گئے جبکہ کام کا معیار بھی مطلوبہ معیار کے مطابق نہ تھا۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر ریحان صابر کی سرپرستی میں ٹھیکیدار کے بل منظور کروا کر ادائیگیاں بھی کر دی گئیں۔شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ریلوے ٹریک کے اطراف سے مٹی اور دیگر سامان بھی غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق درخواست موصول ہونے کے بعد ایف آئی اے سرکل ملتان نے اینٹی کرپشن سیل کے تحت انکوائری باقاعدہ طور پر رجسٹر کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور معاملے کی چھان بین وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سینئر افسران کر رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں ٹینڈر کی رقم میں اضافے، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور بلوں کی ادائیگی میں بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملوث افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں