ملتان ریلوے اسٹور میں ریٹائرڈ کلرک کی تعیناتی پر بدعنوانی کے الزامات

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ریلوے ملتان ڈویژن میں مبینہ بدعنوانی کا نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ریٹائرڈ کلرک محمد اشفاق کو مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر ڈی ٹی او اسٹور کا انچارج تعینات کیا ھوا ہے۔ یہ تعیناتی اس وقت مزید سوالات کو جنم دیتی ہے جب لاہور ہائی کورٹ کا یہ واضح فیصلہ موجود ہے کہ “جب تک محکمے میں اہل ملازمین موجود ہوں، کسی ریٹائرڈ افسر کو کسی سرکاری عہدے پر تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق، اشفاق کی تعیناتی کے بعد لوکل پرچیز، افسران کی گاڑیوں کے پٹرول، مینٹیننس، سامان کی خرید و فروخت اور دیگر مالی معاملات اسی کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے کچھ افسران کے لیے “خصوصی فائدے” پیدا کیے، جس کے باعث اس تعیناتی کو محکمانہ مفادات اور ملی بھگت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔جعلی واؤچرز اور مبینہ فرضی دستخطوں کے الزامات بھی سامنے ائے کہ اشفاق کی تعیناتی کو پروجیکٹ کے نام پر ہیڈ کوارٹر سے منظوری لے کر نوٹس جاری کیا گیا، جب کہ ڈی ٹی او ہیڈ اسٹور علی فاروق سے خریداری وامٹینس فرضی ڈسٹری بیوشن جاری ہونے کے بعد میں سائن کرائے جاتے ہیں۔مزید یہ بھی الزام ہے کہ ڈسٹری بیوشن، ایشو نوٹس اور واؤچرز پر فرضی یا غیر باقاعدہ دستخط بھی کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع نے سوال اٹھایا ہے کہ اتنے اہم اسٹور پر تعیناتی کے لیے پورے ملتان ڈویژن میں ایک بھی قابل مستقل افسر یا کلرک کیوں نہ ملا جس کے باعث ایک ریٹائرڈ ملازم کو ذمہ داری دی گئی ڈی ٹی او اسٹور کے کلرک علی فاروق نے اپنے مؤقف میں بتایا افسران نے تجربے کی بنیاد پر تعینات کیا ہوا ہے۔تمام اعلیٰ افسران ڈی ایس، ڈی ٹی او، ڈی این، ڈی ایم ای، ڈی ایس ای وغیرہ اس تعیناتی سے باخبر ہیں۔”میری پوسٹ حساس اور پیچیدہ ہے، اس لیے مجھے ایک تجربہ کار کلرک درکار تھا۔تمام کوٹیشن اور واؤچرز پر میرے ہی دستخط ہوتے ہیں۔اس وقت میرے پاس پروجیکٹ نوٹس تو موجود نہیں، مگر میرے علم میں ہے کہ نوٹس جاری ضرور ہوا ہےگزشتہ سال سے کسی قسم کی خریداری نہیں کی گئی، صرف پٹرول کا ریکارڈ موجود ہے۔وہ بھی افسران بالا کے کوٹا کے مطابق فراہم کیا جا رہا ہے جس پر ڈی ایس ملتان کی خصوصی ہدایات ہیں ریلوے ترجمان کے مطابق:آج چھٹی ہے، ریکارڈ دیکھنے کے بعد ہی مؤقف دیا جا سکے گا۔ریٹائرڈ کلرک محمد اشفاق کا مؤقف سامنے نہ آ سکا۔متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود محمد اشفاق کا مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔ذرائع اور ملازمین کا مطالبہ ہے کہ:وزیر ریلوےسی ای او پاکستان ریلوےڈی جی ویجیلنس اس معاملے کی اسٹور پروجیکٹ تعیناتی سمیت مکمل تحقیقات کرائیں اور دو سال کے پرچیز و ڈسٹری بیوشن کی فہرست منگوا کر تمام حقائق کو سامنے لائیں تاکہ ملتان ڈویژن میں ہونے والی مبینہ مالی بےضابطگیوں کا پردہ چاک ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں