ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں تعینات تحصیلدار عاصم مشتاق جس نے بطور سب رجسٹرار ایبٹ آباد اور پشاور کی ایف بی آر کی ٹیکس کی رسیدیں لگا کر ملتان کی جس 6 مرلے کی کمرشل پراپرٹی کی رجسٹری پاس کی اور اس کی مالیت 23 لاکھ 50 ہزار روپے ظاہر کی گئی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹمبر مارکیٹ کا ایک کمرشل گودام ہے کیونکہ نشاط روڈ کے علاقے میں واقع ہے اور اس کی کم از کم مالیت ایک کروڑ 10 لاکھ روپے ہے جس کی اصل قیمت کے مقابلے میں محض 50 فیصد ظاہر کر کے رجسٹری کی گئی اور پھر اس 23 لاکھ روپے پر بھی گورنمنٹ کو ایک روپیہ بھی ٹیکس وصول نہ ہوا کیونکہ ادا شدہ ٹیکس کی رسیدیں جعلی لگائی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ عاصم مشتاق کی پشت پناہی زرغام شاہ نامی ایک شخص کرتا ہے اور اسی نے عاصم مشتاق کی ماہانہ بنیادوں پر تعیناتی کروا رکھی ہے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر ایف بی آر کا ٹیکس مکمل ادا شدہ ہو اور رجسٹری کی مالیت بھی پوری ہو پھر بھی بیان کروانے کے عوض 8 سے 10 ہزار روپیہ فی رجسٹری رشوت لی جا رہی ہے اور اگر مالیت کم ہو اور اس پر ایف بی آر کی رسید بھی کسی دوسرے صوبے سے اٹھا کر لگائی گئی ہو تو بیان کروانے کا ریٹ 25 ہزار سے شروع ہو کر ایک لاکھ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ دیدہ دلیری کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف اینٹی کرپشن کی کارروائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف یہ کام دھڑلے سے جاری ہے۔







