ملتان رجسٹری برانچ میں رشوت خوری جاری، ہر بیان پر 10 ہزار وصول

ملتان (عوامی رپورٹر) ضلعی انتظامیہ کے تمام تر اقدامات اور مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ پولیس اور اینٹی کرپشن میں درج مقدمات اور ریکوریاں بھی رجسٹری برانچ میں رشوت خوری کا خاتمہ نہ کر سکی اور آج بھی ہر بیان کے عوض کم از کم 10 ہزار روپے رشوت وصول کی جا رہی ہے۔ یہ رشوت تحصیلدار عاصم مشتاق اور ان کے کلرک مبینہ طور پر لے رہے ہیں جبکہ صفدر نامی وثیقہ نویس اور فرحان نامی ٹھیکیدار اپنی رجسٹریاں 5،5 ہزار روپے فی کس دے کر پاس کروا رہے ہیں۔ رجسٹری برانچ کے ایک ٹھیکیدار نے ’’دوستوں‘‘کی ہر ممکن سہولت کاری کے لیے ایک کوٹھی کرائے پر لے رکھی ہے جہاں ہر رات وصول شدہ رشوت کی حصہ بقدر جثہ تقسیم اور شب بیداری کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ دوسری طرف مدثر اورانصر نامی 2 اشخاص کھلے عام پیسے لے رہے ہیں جبکہ محسن نامی کلرک ان پرائیویٹ لوگوں کے ذریعے 10 سے 15 ہزار فی رجسٹری لے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق صفدر نامی وثیقہ نویس نے چند دن کے وقفے کے بعد دوبارہ سے ایڈوانس گین ٹیکس لیے بغیر رجسٹریاں پاس کروانا شروع کر دی ہیں ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک خدمت سنٹر پر تعینات مومن علی قریشی نے بغیر ایڈوانس اور گین ٹیکس رجسٹریوں کے بیانات کرانے کے لیے 4 افراد کو اختیار دے رکھا ہے جن میں فیصل، شعیب سمرا، مغیث حیدر اور حمزہ بلوچ شامل ہیں۔ یہ چاروں رجسٹری کے ٹاسک نمبر واٹس ایپ کے ذریعے مومن قریشی کو بھجوا دیتے ہیں جو سسٹم اوپن کر کے بغیر فیسوں والی رجسٹریوں کے بیانات لے رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں