تازہ ترین

ملتان رجسٹری برانچ میں اربوں کی کرپشن، 15 سالہ مافیا راج، “قوم” مزید ثبوت سامنے لے آیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) ذمہ دار شہری حلقوں کی جانب سے روزنامہ قوم کو درجنوں ایسی رجسٹریوں کے ثبوت فراہم کیے گئے ہیں جن کو کمرشل کی بجائے رہائشی اور شہری کےبجائے دیہی ظاہر کر کے حکومت پنجاب کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ 15 سال سے جاری ہے جسے کوئی بھی اعلیٰ ترین انتظامی افسر کنٹرول نہیں کر سکا اور ملتان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کمشنر ملتان عامر کریم نے ہاتھ ڈالا ہے۔ روزنامہ قوم کو رجسٹری برانچ میں کرپشن ، فیسوں میں غبن اور ریکارڈ میں رد و بدل کے معاملے پر پرائیویٹ مافیا کے مضبوط ترین گروپ کے سربراہ ملک واجد رضا کے سیاسی جماعتوں اور بیورو کریسی میں متعدد سہولت کاروں کا بھی انکشاف کیا گیا ہے، ملک واجد رضا نے پی ٹی آئی دور میں مخدوم زین قریشی اور ان کے انتہائی قریبی کارکنان کے ذریعے رجسٹری برانچ میں سب رجسٹرار تعینات کروانے کا منظم سلسلہ شروع کیا اور پھر یہ گروہ اتنا طاقتور ہو گیا اور ان کے رابطے براہ راست بورڈ آف ریونیوں سے لاہور میں ہو گئے انہیں کسی سیاسی سرپرستی کی ضرورت باقی نہ رہی اور یہ بولی کی بنیاد پر اپنی مرضی کا سب رجسٹرار تعینات کرواتے رہے۔ اس طرح گزشتہ آٹھ سال کے دوران ملک واجد رضا کا ملتان کے رجسٹری برانچ پر مکمل کنٹرول رہا ۔حکومت بدل گئی مگر ان کی گرفت کم نہ ہو سکی جو آج بھی جاری ہے۔ کمشنر ملتان عامر کریم خان کے رجسٹری برانچ پر کامیاب چھاپے کے بعد بھی اس گروپ نے پولیس کی تفتیش اور اینٹی کرپشن حکام کو باآسانی مینج کر لیا ہے یہی وجہ ہے کہ دیگر تمام گروپوں کا گروپوں کا دھندہ بند ہونے کے باوجود ان کا دھندہ پوری آب و تاب سے چل رہا ہے۔ ملک واجد رضا کے بارے میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے 2017 سے رجسٹری برانچ میں جڑیں پھیلانا شروع کی اور پہلی مرتبہ اپنی مرضی کا سب رجسٹرار تعینات کروانے میں کامیابی حاصل کی اور اس دوران پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی تو پھر یہ کھل کر کھیلنے لگے، پی ٹی آئی دور حکومت کے بعد انہوں نے بیوروکریسی میں اپنی گرفت مضبوط کر لی اور پھر رجسٹری برانچ کے جونیئر کلرک گوہر شاہ کے ساتھ ملکر موجودہ تحصیلدار صدر مہر شمعون سیال کو سب رجسٹرار تعینات کروا لیا۔ معلوم ہوا ہے کہ واجد رضا کے بھائی ملک احسن رضا وثیقہ نویس، گوہر شاہ، نسیم عباس شاہ سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر آفس ملتان اور اے ڈی سی آر کے پی اے عدیل شیخ ایک پورا گروہ بن چکا ہے جو کہ مافیا کی طرح آپریٹ کرتا ہے اور اس گینگ کی گرفت سے کوئی بھی تحصیلدار یا سب رجسٹرار گزشتہ آٹھ سال میں باہر نہیں نکل سکا۔ اس گروپ کی سہولت کاری کے باعث حالیہ دور میں مہر شمعون سابق سب رجسٹرار کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کی گئی۔ واجد رضا گروپ مہر شمعون سب رجسٹرار کے ذریعے درجنوں کمرشل پراپرٹیز کو رہائشی، رہائشی کو زرعی میں تبدیل کرنے میں ملوث رہاجبکہ سندھ ،کے پی کے اور بلوچستان میں ادا کئے گئے ایف بی آر ٹیکسز کی رسیدوں کو ملتان میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے سسٹم کو مبینہ طور پر ہیک کرکے رجسٹریوں کیساتھ چسپاں کرکے کروڑوں روپے ٹیکس کی مد میں لوٹے گئے اور ملتان میں یہ ٹیکس ادا ہی نہ ہوئے اور یہ کھلم کھلا ٹیکس چوری آج بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ زمینوں کی مالیت اصل قیمت سے کم ظاہر کرکے بھی حکومتی ریونیو کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، روزنامہ قوم کو شہریوں کی طرف سے کم قیمت رجسٹریوں اور ٹیکسوں میں پھیر پھیر کی گئی رجسٹریوں کی درجنوں نقول فراہم کی گئی ہیں جن میں سے ایک مثال رجسٹری نمبر 112/2025 /0026593 ، وارڈ نمبر تین دکان نمبر 2059 واقع تیل مارکیٹ نزد حشمت سینما حسین آگاہی بازار کی ہے جس میں ایک مرلہ 112 فٹ کمرشل پراپرٹی کی اصل قیمت چھپا کر صرف 92 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے جبکہ اس کی مارکیٹ ویلیو 4 کروڑ روپے فی مرلہ بتائی جا رہی ہے، اس رجسٹری کو پاس کرنے والے سب رجسٹرار مہر شمعون ولد شہادت علی اور رجسٹری کے اندراج کنندہ یاسر قریشی ہیں ، جو کہ واجد رضا گروپ کے اہم وثیقہ نویس رضوان قریشی کے بھائی ہیں۔ اسی طرح 6 مرلہ پلاٹ کی 33 لاکھ روپے ویلیو کی رجسٹری صرف پانچ لاکھ روپے میں کی گئی ہے جس کا رجسٹری نمبر 11220250026397 ہے جو کہ 10 اکتوبر 25 کو پاس کی گئی۔ اسی طرح متعدد رجسٹریوں میں ٹیکس غبن، کم قیمت ، فیسوں میں ہیر پھیر اور اب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ریکارڈ میں چوری کی شکایات بھی ہیں مگر اب تک اس گروپ کے تمام کارندے محفوظ ہیں اور کھل کر کام کر رہے ہیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے ایک کمشنر ملتان کے چھاپے اور گرفتاریوں کے باوجود ضلع انتظامیہ موجودہ صورتحال پر خاموش ہے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کمشنر ملتان کو ایک مرتبہ پھر سے اچانک کارروائی کرنا پڑے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں