ملتان ( سٹاف رپورٹر) رجسٹری برانچ ملتان میں اربوں روپے کی کرپشن ، ٹیکسوں میں ہیر پھیر اور غبن کے معاملے میں اینٹی کرپشن کے گلگشت میں چھاپے اور ایک پرائیویٹ شخص کی گرفتاری کے بعد اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، معلوم ہوا ہے کہ گرفتار پرائیویٹ شخص علی حسن پرائیویٹ مافیا کے سرغنہ ملک واجد رضا کے بھائی ملک احسن رضا کے لیے کام کرتا ہے ، اینٹی کرپشن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ ملک واجد رضا اپنے 8 بھائیوں کے ہمراہ رجسٹری برانچ میں یہی دھندہ کرتے ہیں اور تحصیلداروں و سب رجسٹراروں کا سرکاری لاگ ان پرائیویٹ جگہوں پر غیر قانونی طور پر استعمال کر کے بیانات قلم بند اور رجسٹریاں پاس کرنے میں ملوث چلے آ رہے ہیں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اینٹی کرپشن نے ایک فہرست تیار کر لی ہے جس میں ملک واجد رضا اور ان کے آٹھ بھائیوں کے نام شامل تفتیش کیے جانے کا امکان ہے، ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تفتیش میں فیاض بلوچ ،ملک رمضان، ملک اکمل اور نوید بھٹی کے نام بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ بھی پرائیویٹ جگہوں پر سرکاری لاگ ان غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہیں ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گرفتار ملزم علی احسن کی جانب سے استعمال کیے جانے والا سرکاری لاگ ان تحصیلدار سٹی ملک جاوید کا تھا اس پر بھی اینٹی کرپشن کی جانب سے تحصیلدار ملک جاوید کے خلاف کاروائی کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ روزنامہ قوم پہلے ہی اس بات کی نشاندہی کر چکا ہے کہ پرائیویٹ مافیا کے ڈاؤن ملک واجد رضا گروپ ٹیکسوں ہیر پھر ،غبن اور کرپشن میں ملوث چلا آرہا ہے، گروپ میں ان کے بھائی ملک احسن رضا ،ملک علی رضا ،ملک عباس رضا، ملک عمران رضا ،ملک شہزاد رضا ،ملک فرحان رضا اور بیٹے ملک حسن رضا اور ملک میثم رضا شامل ہیں جو کہ عرصہ دراز سے رجسٹری برانچ میں اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں مگر سیاسی اثر رسوخ، بیوروکریسی اور میڈیا میں وسیع تعلقات کے باوجود آج تک ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی جو کہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔







