ملتان رجسٹری آفس میں کرپشن اور جعلسازی، کمشنر کا چھاپہ، 78 افراد ملوث نکلے، چار گرفتار

ملتان( وقائع نگار)ایف آئی آر نمبر 1917 /25 کے تحت رجسٹری آفس تحصیل ملتان میں مبینہ کرپشن، جعلسازی اور سنگین بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی ،کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان کی براہِ راست نگرانی اور موقع پر موجودگی میں عمل میں لائی گئی۔ کمشنر ملتان نے خود رجسٹری آفس کا دورہ کیا، ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور پوری کارروائی کو ذاتی طور پر مانیٹر کیا۔کارروائی کے دوران 78 افراد ملوث پائے گئے جن کے خلاف تھانہ چہلیک میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس مقدمے میں سب رجسٹرار ملتان سٹی جاوید احمد خان مدعی ہیں، جن کی درخواست پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔اس کیس میں ایک سرکاری ملازم اور 3 پرائیویٹ وثیقہ نویس کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہوا۔ گرفتار ملزمان میں منیر احمد جونیئر کلرک رجسٹرار آفس ،وثیقہ نویس حسن رضا، فیصل زمان اور محمد ریحان شامل ہیں۔مزید پیش رفت میںکمشنر ملتان عامر کریم خان کی سفارش پر رجسٹرار عمران ارشد کو معطل کر دیا گیا ،پیڈاایکٹ کے تحت بھی کارروائی جاری ہے، جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے ان کی فوری معطلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔انتظامیہ کے مطابق کمشنر ملتان عامر کریم خان نے یہ مکمل کیس ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان ریجن کو مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے باضابطہ طور پر بھجوا دیا ہے۔ کمشنر ملتان اس پورے معاملے کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن، جعلسازی اور سرکاری نظام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے اس کےنام شامل ہیں جو کہ جعلی رجسٹریوں ,بوگس چالان میں وثیقہ نویس شامل ہیں ان کے خلاف ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان بشارت نبی نے مکمل تحقیقات کرنے کے لیے سرکل آفیسر علی حسن گیلانی محرر ملک منصور کو بھجوا دیا ہے کل سے ڈیلی کی بنیاد پر ان کے خلاف تحقیقات کریں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں