ملتان( سٹاف رپورٹر) جس دبائو اور ترغیب کے سامنے 9سال قبل سابق سی پی او ملتان اظہر ا کرام ڈھیر ہوگئے تھے۔ اسی قسم کے بلکہ اس سے بڑھ کر سیاسی اور سماجی دبائو کو موجودہ سی پی او ملتان محمد صادق ڈوگر نے خاطر میں نہ لاتے ہوئے نشاط سکولز کے مالک ’’عالمگیر خان ‘‘کے آئس کی لت میں مبتلا بیٹے شاہ میر عالم کی طر ف سے ریس لگانے پر دو سگے بھائیوں کو کچل کر ہلاک کرنے کے واقعہ کی ایف آئی آر میں قتل عمدکی دفعہ302 شامل کرکے نشاط گروپ کے اس زعم اور تکبر کا صفایا کردیا ہےکہ ہر قسم کے ظلم اور دھونس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ شہر بھر میں یہ بات زبان زدعام ہے کہ اگر میڈم نشاط کے پوتے شہیر کی طرف سے 2014میں اپنے ہی دوست اور کلاس فیلو کے ساتھ بدفعلی کا ارتکاب کرانے، اس کی ویڈیو بنانے اور بلیک میل کرنے کے سنگین نوعیت کے جرم پر سزا مل جاتی تو خانیوال کے دو سگے بھائیوں کی اس طرح سے موت نہ ہوتی۔ میڈم نشاط کے جن کے درجن کے قریب سکولوں میں ہزاروں کی تعداد میں بچے پڑھتے ہیں کی ساری کی ساری آمدنی گول مال پر محیط ہے اور ٹیکس یہ گروپ برائے نام اس لیے دیتا ہے کہ انکم ٹیکس کے ملازمین کے بچے یہاں مفت یا انتہائی رعایتی فیس پر تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہ واحد تعلیمی گروپ ہے جو بچوں سے جرمانوں کے نام پر ہر ماہ لاکھوں روپے فیسوں کے علاوہ وصول کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عالمگیر خان نے ایمنسٹی سکیم میں 5فیصد ادائیگی کرکے دو ارب روپے آج سے کئی سال قبل بلیک منی سے وائٹ میں تبدیل کیے تھےاور حال ہی میں انہوں نے ڈی ایچ ا ے ملتان میں 64کروڑ روپے کے دو پلاٹ خریدے ہیں جن میں سے ایک پر سکول کی عمارت کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے ۔ میڈم نشاط نے اپنے پاس صرف دو سکول رکھے ہیں جبکہ باقی اپنے بیٹوں میں تقسیم کردئیے مگر عرفی خان اس طرح سے ترقی نہیں کرسکے جس طرح عالمگیر خان نے کئی برانچز بنا کر دو دہائیوں میں ترقی تو کرلی مگر اپنی اولاد کو تباہ و برباد کرلیا۔ حال ہی میں عظمت واسطی روڈ پر نشاط سکول کی برانچ کے لیے انہوں نے کروڑوں روپے کی زمین خریدی۔ معلوم ہوا ہےکہ ملتان پولیس پر بعض با اثر سیاسی گھرانوں کا سخت دبائوہےکہ ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھا جائے مگر ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے ملتان پولیس کو اس معاملے پر کسی بھی قسم کے دبائو کو قبول نہ کرتے ہوئے میرٹ پر تفتیش کرنے کے لیے کہا ہے۔







