ملتان حادثہ: معاملات مینج، ملزم جیل سے ہسپتال منتقل، میڈم نشاط کے پوتے نشے، بدفعلی کیس میں بھی ملوث

ملتان(سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کے لاکھوں بچوں کو تعلیم و تربیت دینے والی نشاط سکول کی سربرا ہ میڈم نشاط اپنی اولاد کی سرے سے کوئی اخلاقی ،معاشرتی اور ذہنی تربیت ہی نہ کر سکی اور ان کے پوتے ہر طرح کے اخلاقی جرائم میں ملوث ہیں مگر ملتان میں تعینات پولیس اہلکاروں، انکم ٹیکس ملازمین و دیگر اہم سرکاری اداروں کے ملازمین کے بچوں کے لیے مفت اور رعایتی تعلیمی پیکیج اس گروپ کو ہر طرح سے سہولت کاری دیتا ہے۔ یکم ستمبر 2014 کو میڈم نشاط کے پوتے شہیر عالم نے معمولی جھگڑے پر طیش میں آکر اپنے کلاس فیلو کو اغوا کیا پھر ایک ڈیرے پر لے جا کر تین ملازمین سے اس کے ساتھ بد فعلی کروائی اور پھر اس بدفعلی کی ویڈیو بھی بنائی ۔مقدمہ تھانہ گلگشت میں درج ہوا مگر اس دور میں ملتان میں تعینات پولیس کے ایک سربراہ اظہر اکرام نے از خود ضمنی لکھوا کر شہیر عالم کا مقدمہ ختم کرایا ۔شہیر عالم اورملتان پبلک سکول روڈ پر ریس لگاتے ہوئے دو سگے بھائیوں منیب ارشد اور نوید ارشد ولد محمد ارشد ارائیں سکنہ بلال کالونی خانیوال کو موت کے منہ میں دھکیلنے والے شاہ میر عالم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ شراب اور آئس کا عادی ہے اور حادثے کے وقت بھی وہ نشے میں دھت ہو کر ملتان پبلک سکول روڈ پر ریس لگا رہا تھا کہ گاڑی نمبر ایم این ڈی444کرولا اٹلس نےسڑک کے انتہائی کنارے پر موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے دو بھائیوں کو کچل دیا جو موقع پر ہی جا ں بحق ہو گئے ۔پولیس نے 2014 کی طرح 11 سال بعد 2025 میں بھی شاہ میر کے خلاف تھانہ بی زیڈ میں302 کی دفعہ کے تحت مقدمہ تودرج کر لیا مگر مکمل سہولت کاری کرتے ہوئے ملزم شاہ میر کا میڈیکل نہ کرایا تاکہ میڈیکل رپورٹ میں شراب اور دیگر نشے کا ثبوت نہ مل سکے اور ملزم کی بریت میں آسانی ہو۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملتان میں تعلیمی حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھنے والی میڈم نشاط کا بیٹا عرفی خان شراب کا اتنا رسیاتھا کہ کثرت شراب نوشی نے اس کے جگر کو ناکارہ کر دیا تھا جس پر وہ بھارت جا کر جگر کی پیوند کاری کروا کر آیا اور پھر اس نے بمشکل شراب نوشی سے توبہ کی۔ پولیس نے ملزم شاہ میر کو موقع سے خود فرار کرایا اور اگلے روز معاملہ مینج کرنے کے بعد اسے پولیس کے حوالے کیا جسے گزشتہ روز پولیس نے میڈیکل کرائے بغیر مکمل سپورٹ کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ۔روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق جیل جاتے ہی اسے جیل کے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا اور اس طرح جیل میں بھی اس کا پروٹوکول لگ گیا۔یکم ستمبر 2014 کو حادثے کےاس ملزم شاہ میر عالم کے بڑے بھائی شہیر عالم نے اپنے جس دوست اور سابق کلاس فیلو کے ساتھ اپنے تین ملازمین سے بدفعلی کرا کر اس کی ویڈیو بنائی تھی، اس کا والد ڈاکٹر تھا اور وہ لڑکا اس قدر ڈپریشن میں چلا گیا تھا کہ خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کے والد نے اپنی تمام تر کوششیں کر لی مگر وہ نشاط گروپ کی مالک میڈم نشاط کے پوتے کو سزا نہ دلوا سکے اور کہا جاتا ہے کہ اس وقت بھی اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے ایک پولیس آفیسر سے 40 لاکھ روپے کی ڈیل ہوئی تھی جبکہ اس وقت کے پولیس سربرا ہ ظہر اکرام پر اتنا دباؤ تھا کہ انہوں نے تفتیشی کو اپنے پاس بلا کر اپنی موجودگی میں ضمنی لکھوا کر سارا معاملے کو ہی ٹھپ کرا دیا اور زیادتی کا شکار ہونے والے نوجوان کا والد دھکے ہی کھاتا رہا مگر کسی بھی فورم پر اس کی شنوائی نہ ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ نشاط سکول میں پڑھنے والے ہزاروں بچوں میں سے کسی کو بھی فیس اور داخلے کی مد میںلی جانے والی رقم بذریعہ چیک دینے یا بینک میں جمع کرانے کی اجازت نہیں ہے اور ہر ماہ کروڑوںروپے کچی رسیدوں پر ہی موصول ہوتا ہے ۔ملتان میں موجود ریجنل ٹیکس آفس اربوں روپے سالانہ کمانے والے اس گروپ کو ہر طریقے سے سپورٹ کرتا ہے تاہم انکم ٹیکس ملازمین کے بچوں سے اول تو فیس لی ہی نہیں جاتی اور اگر لی جائے تو 20 فیصد سے زائد نہیں اور اس طرح 80 فیصد رعایت صرف فیس میں دی جاتی ہے۔

میڈم نشاط خانم، شاہ میر عالم خان کا والد عالمگیر عالم خان عرف عالمگیر خان عرف عالم خان،میڈم نشاط کا بیٹا عرفی خان جس کا بھارت سے جگر ٹرانسپلانٹ ہوا

ایم پی ایس روڈپرحادثہ نہیں قتل، ملزم شاہ میرنے ریس سے روکنےپردونوں بھائیوں کوکارتلے کچلا، مدعی کے بیان پر322کی دفعہ 302 میںتبدیل کردی گئی

ملتان(سٹاف رپورٹر)ملتان پبلک سکول روڈ پر خانیوال کے دو سگے بھائیوں کی حادثے میں موت دراصل قتل کی واردات تھی۔ پولیس نے مدعی کے ضمنی بیان کی روشنی میں 322 کی دفعہ کو 302 میں تبدیل کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں بھائی موٹرسائیکل پر جا رہے تھے تو ملزم شاہ میر جو کہ آئس کا نشہ کرتا ہے، شراب میں دھت تھا۔ اس نے ان دونوں بھائیوں کو سائیڈ ماری تو دونوں بھائیوں نے اسے روک کر کار ریس سے روکا جس پر ملزم شاہ میر نے دونوں بھائیوں کو گالیاں دیں اور پھر گاڑی میں بیٹھ گیا اور دونوں بھائی بھی وہاں سے روانہ ہو گئے تو اس نے دونوں بھائیوں کو عقب سے گاڑی کی سائیڈ ماری جس سے دونوں کے سر کچلے گئے اور وہ موقع پر ہی جا ں بحق ہو گئے۔ مدعی کے اس بیان کی روشنی میں پولیس نے ایف آئی آر میں درج دفعہ 322 کو قتل عمد کی دفعہ 302 میں تبدیل کر دیا ہے۔ ملزم کو گزشتہ روز ہی جیل بھیج دیا گیا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں