ملتان(شیخ نعیم سے )ملتان ڈسٹرکٹ جیل سمیت پنجاب بھر کی وہ جیلیں جو گنجان شہری آبادی کے عین درمیان قائم ہیں وہاں نصب موبائل فون جیمرز نے سیکیورٹی کے نام پر عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ملتان ڈسٹرکٹ جیل کے اطراف واقع نشتر ہسپتال، نشتر ڈینٹل ہسپتال، نشتر میڈیکل یونیورسٹی، جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ اور برن سنٹر جیسے نہایت حساس اور اہم ادارے جیمرز کی زد میں آ کر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جہاں ہر لمحہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال کے پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال اور دیگر میڈیکل سنٹرز میں روزانہ جنوبی پنجاب، اندرون سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں، جن میں بڑی تعداد تشویشناک اور ایمرجنسی کیسز کی ہوتی ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کے باعث مریضوں کے لواحقین ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، ڈاکٹروں سے معلومات لینے اور فوری انتظامات کرنے میں شدید پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ بعض اوقات بروقت رابطہ نہ ہونے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔صرف طبی ادارے ہی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ سمیت دیگر سرکاری دفاتر میں بھی جیمرز کے باعث رابطہ تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ افسران، عملہ اور سائلین سرکاری امور شکایات اور فوری نوعیت کے معاملات میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت ڈیجیٹل گورننس، ای آفس اور آن لائن سروسز کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب شہر کے وسط میں قائم جیل کے جیمرز پورے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا جیمرز واقعی اپنے مقصد میں کامیاب ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جیلوں کے اندر سے موبائل فون کے ذریعے ہونے والی کالز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا سرگرمیاں آج بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ جیل خواہ کسی بھی شہر میں ہو، اس کا داخلی راستہ ایک ہی ہوتا ہے، جہاں دستی تلاشی، واک تھرو گیٹس اور جدید اسکینر مشینیں نصب ہیں، اس کے باوجود قیدیوں کا منشیات موبائل فون اور دیگر ممنوعہ اشیاء جیل کے اندر لے جانا جیل انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بااثر قیدی خود ممنوعہ سامان جیل میں داخل نہ کروا سکے تو یہی کام مبینہ طور پر جیل کا محدود مگر بااثر عملہ بھاری رقوم کے عوض انجام دیتا ہے۔ جیلوں کے اندر بننے والی سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک ویڈیوز، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ چند اہلکار پیسے کے عوض ہر حد عبور کرنے کو تیار نظر آتے ہیں، جس سے جیمرز کی افادیت مکمل طور پر مشکوک ہو جاتی ہے۔چند عرصہ قبل سنٹرل جیل میں پیش آنے والا واقعہ اس کی واضح مثال ہے، جہاں جیل برج پر ڈیوٹی دینے والے ایک وارڈر نے اپنے موبائل فون کے ذریعے خطرناک قیدیوں سے مبینہ طور پر رشوت وصول کی اور انہی قیدیوں کے ساتھ ویڈیو بنائی، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ وائرل ویڈیو سامنے آنے پر آئی جی پنجاب جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد وڑائچ کو انکوائری کا حکم دیا جس کے نتیجے میں مذکورہ وارڈر کو ٹریس کر کے محکمے سے فارغ کر دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس امر کی گواہی ہے کہ جیلوں میں مسئلہ آلات کا نہیں بلکہ عملے کی بدعنوانی کا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے متعدد بار ملتان ڈسٹرکٹ جیل کو شہر سے باہر منتقل کرنے اور نئی جیل تعمیر کرنے کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ بھی کیا، تاہم یہ منصوبہ ہر بار نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر فائلوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جیل شہر سے باہر منتقل کر دی جائے تو نہ صرف سیکیورٹی کے تقاضے بہتر طور پر پورے ہو سکتے ہیں بلکہ شہری آبادی، ہسپتالوں اور سرکاری اداروں کو بھی مستقل ریلیف مل سکتا ہے۔عوامی سماجی اور طبی حلقوں نے حکومت پنجاب، محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جیمر پالیسی کا فوری ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جیلوں کے اندر کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اور شفاف احتسابی نظام نافذ کیا جائے اور شہری آبادی کو متاثر کیے بغیر سیکیورٹی کے جدید اور متبادل حل اختیار کیے جائیں، بصورت دیگر سیکیورٹی کے نام پر عوام کو مشکلات میں ڈالنے کا یہ سلسلہ مزید سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے ۔







