ملتان (نمائندہ قوم) ملتان میں موٹر سائیکل سواروں کی تیز رفتاری، روڈ لائن کی خلاف ورزیاں اور آٹو رکشہ ڈرائیوروں کی غیر محتاط ڈرائیونگ کے باعث شہری ٹریفک نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ شہر کی مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر لین ڈسپلن کی خلاف ورزی، سگنل توڑنے، ون وے کی پامالی اور بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے کے واقعات معمول بن چکے ہیں جس کے نتیجے میں رمضان المبارک میں ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور حادثات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ پرانا شجاع آباد روڈ، عزیز ہوٹل چوک،چوک کچہری، بوسن روڈ، چونگی نمبر 9، دولت گیٹ اور حسین آگاہی سمیت دیگر مصروف علاقوں میں موٹر سائیکل سوار بڑی تعداد میں ٹرپل سواری اور تیز رفتاری کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ متعدد مقامات پر گاڑیاں روڈ لائن عبور کرتے ہوئے لین تبدیل کرتی ہیں۔ آٹو رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے غیر مقررہ مقامات پر رکنا اور سڑک کے درمیان سواری اتارنا بھی ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ماہِ رمضان کے بابرکت مہینے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ افطاری سے قبل کھانے پینے کی دکانوں، بیکریوں اور بازاروں کے باہر کاروں اور موٹر سائیکلوں کی غلط پارکنگ کے باعث شہریوں کا گزرنا محال ہو جاتا ہے۔ شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں سڑکوں کے دونوں اطراف گاڑیاں کھڑی کر دی جاتی ہیں جس سے ٹریفک کی روانی تقریباً معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ افطاری سے کچھ دیر پہلے ملتان کے متعدد چوراہوں پر ٹریفک بلاک ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں جبکہ جلد بازی اور تیز رفتاری کے باعث ٹریفک حادثات میں بھی اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں موٹر سائیکل حادثات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں زیادہ تر واقعات تیز رفتاری اور حفاظتی اقدامات اختیار نہ کرنے کےباعث پیش آئے۔ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ٹریفک حادثات کے زخمیوں کو منتقل کیا جا رہا ہے جہاں مختلف نوعیت کی چوٹوں کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر کی اہم شاہراہوں پر چیکنگ اور چالان کی کارروائیاں جاری ہیں۔ قائم مقام چیف ٹریفک آفیسر سمیت متعلقہ ٹریفک ڈی ایس پیز اور سرکل انچارجز سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ ماہِ رمضان کے دوران بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ شہر میں ٹریفک نظم و ضبط کی موجودہ صورتحال انتظامی توجہ کی متقاضی بن چکی ہے اور شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔







