ملتان( نیوز رپورٹر،وقائع نگار)تین ماہ سے تنخواہ نہ ملنےپرستھراپنجاب کے کنٹریکٹ ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کیاودھرنا دیا۔اس موقع پرملازمین نے کوڑاسڑک پربکھیرکراحتجاج ریکارڈکرایا۔آل پاکستان فیڈریشن آف یونائٹیڈ ٹریڈ یونین کے ڈویژنل صدر شیخ محمد اسماعیل سمیت عہدیداران اورملازمین نےورکشاپ آفس میں احتجاجی دھرنےدیا ۔اس موقع پرمقررین نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیداروں کی جانب سے ورکروں کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی۔ورکرز کے راشن کارڈ اور میڈیکل کارڈ نہیں بنائے گئے اور ٹھیکیداروں اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے صاف ستھرا پنجاب کا بونس بھی ابھی تک کنٹریکٹ ملازمین کو نہیں دیا گیا۔ گورنمنٹ کی تنخواہ 40 ہزار روپے ہے جبکہ ٹھیکیداروں کی جانب سے 18 سے 25 ہزار روپے کٹوتی کر کے دیتے ہیں۔ہماری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ،کمشنر ملتان، ڈی سی ملتان،سی ای اوویسٹ مینجمنٹ کمپنی سےمطالبہ کرتے ہیں کہ ودکروں کےمطالبات منظورکئے جائے۔اگرہمارے مطالبات منظورنہ کئےگےتواحتجاج کادائرہ وسیع کردیاجائےگا۔دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفیسر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی عابد حسین بھٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز چند سینٹری ورکرز نے اپنی ٹھیکیدار کمپنی کی جانب سے کی گئی تنخواہوں میں کٹوتیوں اور پرانے واجبات کی عدم ادائیگی پر احتجاج اور علامتی ہڑتال کی جس پر کمپنی انتظامیہ کی جانب سے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ کنٹریکٹر کمپنیوں کو فوری طور پر واجبات کی ادائیگی کی ہدایت جاری کی گئی جس کے بعد ورکرز نے ہڑتال ختم کر دی۔انہوں نے کہا کہ نجی ٹھیکیدار کمپنیوں کے مطابق بائیو میٹرک سسٹم میں غیر حاضر پائے جانیوالے ورکرز کی تنخواہوں میں کٹوتیاں کی گئیں باقاعدگی سے ڈیوٹی سر انجام دینے والے تمام ورکرز کو بلا تعطل تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں تاہم ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے تمام ورکرز کو میرٹ پر تمام واجبات ادا کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں صفائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہےجبکہ غفلت یا کوتاہی برتنے والے کنٹریکٹرز کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔







