ملتان(سپیشل رپورٹر) تھانہ گلگشت کے علاقے میں نجی سپر سٹور (کے کے مارٹ) کے باہر طاہر انصاری عرف بٹ کے دن دیہاڑے سنسنی خیز قتل نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پولیس کی اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیموں نے ابتدائی روایتی کارروائی کے بعد اب تحقیقات کا دائرہ انتہائی حساس پہلوؤں تک وسیع کر دیا ہے، جس میںدشمنی، بدلہ اور بین الاقوامی سمگلنگ جیسے لرزہ خیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق یہ محض قتل کی واردات نہیں بلکہ ایک طویل خونی ڈرامے کی کڑی نظر آتی ہے۔ مقتول طاہر بٹ کا ماضی تنازعات سے بھرا تھا اور جدید سائنسی خطوط پر جاری تفتیش اب کئی بند گلیوں کو کھول رہی ہے۔پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مقتول طاہر بٹ چند سال قبل سمیر پٹھان نامی شخص کے مبینہ قتل کے مقدمے میں نامزد تھا، تاہم وہ عدالت سے بری ہو گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمیر پٹھان کے بھائیوں نے اس بریت کو تسلیم نہیں کیا اورخون کا بدلہ خون لینے کے لیے مبینہ طور پرکرائے کے قاتل حاصل کیے۔ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آوروں نے طاہر بٹ کی ریکی کی اور موقع پاتے ہی فائرنگ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ پہلو تفتیش کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے کہ آیا یہ قتل خالصتاً پرانی دشمنی کا شاخسانہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی نیا محرک ہے۔قتل کی واردات کے فوراً بعد پولیس نے تغلق ٹاؤن میں پٹھان گروپ کے ٹھکانوں پر بھاری نفری کے ساتھ سرچ آپریشن کیااورچندافرادکوگرفتارکیاجنکی گرفتاری ریکارڈمیں نہیں لائی گئی۔ ذرائع کے مطابق پٹھان گروپ کے بیشتر افراد اپنے گھروں کو تالے لگا کر غائب ہو چکے ہیں۔ مبینہ طور پر یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ گروپ کے اہم ارکان گرفتاری سے بچنے کے لیے غیر قانونی راستوں سے افغانستان منتقل ہو گئے ہیں۔انتہائی باوثوق ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ روپوش ہونے والاپٹھان گروپ ملتان اور گردونواح میںسمگلنگ کے بڑے دھندےمیں بھی ملوث ہے۔ پولیس اب اس زاویے سے بھی جانچ کر رہی ہے کہ مقتول طاہر بٹ اور اس گروپ کے درمیان کہیں سمگلنگ کے کالے دھندے میں حصہ داری یا لین دین کا کوئی نیا تنازع تو کھڑا نہیں ہو گیا تھا جو قتل کی وجہ بنا۔پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کیس کو ذاتی دشمنی، سابقہ مقدمات، اور سمگلنگ جیسے تمام ممکنہ عوامل کو مدنظر رکھ کر میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ جبکہ اہل خانہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے ملزمان کی جلد گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔







