تازہ ترین

ملتان ایکسائز ریکارڈ میں ہوسٹلز، گیسٹ ہاؤسز، رہائشی ظاہر، ٹیکس چوری تحقیقات شروع

ملتان ( تحقیقاتی رپورٹر )ملتان میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے بعض افسران کی جانب سے کمرشل عمارتوں کو سرکاری ریکارڈ میں مبینہ طور پررہائشی ظاہر کرنے کے سکینڈل نے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں جاری ریگولر انکوائری کے دوران یہ نکتہ سامنے آیا ہے کہ ریکارڈ میں کی جانے والی اس مبینہ ہیرا پھیری کے باعث درجنوں گیسٹ ہاؤسز پنجاب پولیس کے سکیورٹی سسٹم ہوٹل آئی (Hotel Eye) کی لازمی مانیٹرنگ سے باہر ہو سکتے ہیں جس سے جرائم پیشہ عناصر کے لیے ان جگہوں کو استعمال کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ایک محکمانہ اندرونی ذرائع نے نومبر 2025 میں اینٹی کرپشن ملتان کو دستاویزی شواہد کے ساتھ آگاہ کیا تھا کہ بوسن روڈ اور ملحقہ علاقوں میں متعدد کمرشل ہوسٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو کاغذات میں رہائشی مکان دکھا کر لاکھوں روپے کا ٹیکس بچایا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ریکارڈ میں اس نوعیت کی ٹیمپرنگ سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا بلکہ یہ عمارتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اس فہرست سے بھی نکل گئیں جہاں مہمانوں کا ڈیٹا ہوٹل آئی سسٹم پر اپ لوڈ کرنا لازمی ہوتا ہے۔ یہی انتظامی خلا مجرمانہ عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں میڈیا کے مختلف حلقوں اور اخباری رپورٹس میں یہ سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ملتان کے بعض غیر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤسز میں سنگین غیر قانونی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ اگرچہ ان سرگرمیوں کی حتمی تصدیق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگی، تاہم وسل بلوؤر کی جانب سے قبل از وقت دی گئی وارننگ نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ ریکارڈ کی ٹیمپرنگ نے مجرمانہ عناصر کو بالواسطہ طور پرمحفوظ راستہ فراہم کیا۔معاملے کی سنگینی کے پیش نظرڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان ریجن کے حکم پر جاری انکوائری کے سلسلے میں انکوائری افسر ڈپٹی ڈائریکٹر عمران عارف سیال نے محکمہ ایکسائز کے متعلقہ افسران کو آج بروز منگل 13 جنوری کو مکمل ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔ انکوائری میں اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کہ آیا ریکارڈ میں ردوبدل صرف مالی بدعنوانی تھی یا اس کے پیچھے ان عمارتوں کو سکیورٹی مانیٹرنگ سے بچانے کی کوئی منظم کوشش شامل تھی۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کو وسیع کرتے ہوئے ان تمام عوامل کا تعین کیا جائے جن کی وجہ سے ملتان کے گیسٹ ہاؤسز اور ہوسٹلز سکیورٹی چیکس سے آزاد ہو کر مختلف النوع خطرات کے خدشات کا باعث بنے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں