ایم فل، پی ایچ ڈی ریڈی میڈ تحقیق، ملتان میں شریف، بہاولپور میں طارق کا تھیسز نیٹ ورک-ایم فل، پی ایچ ڈی ریڈی میڈ تحقیق، ملتان میں شریف، بہاولپور میں طارق کا تھیسز نیٹ ورک-انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان میں غیر قانونی بھرتیاں، اینٹی کرپشن کھاتے کھل گئے، رجسٹرار طلب-انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان میں غیر قانونی بھرتیاں، اینٹی کرپشن کھاتے کھل گئے، رجسٹرار طلب-جام پور: پٹرول ایجنسیوں، گیس فلنگ فیکٹری پر اے سی کی سرپرستی کی چھتری، سانحے کا خدشہ-جام پور: پٹرول ایجنسیوں، گیس فلنگ فیکٹری پر اے سی کی سرپرستی کی چھتری، سانحے کا خدشہ-مظفرگڑھ: دہائی پرانی دشمنی نے پھر سر اٹھا لیا، حافظ قرآن قتل، ملزمان کا چھوٹو گینگ سے تعلق-مظفرگڑھ: دہائی پرانی دشمنی نے پھر سر اٹھا لیا، حافظ قرآن قتل، ملزمان کا چھوٹو گینگ سے تعلق-ملتان: جنرل بس سٹینڈ سکیورٹی رسک، واک تھرو گیٹس نہ سامان و مسافروں کی چیکنگ-ملتان: جنرل بس سٹینڈ سکیورٹی رسک، واک تھرو گیٹس نہ سامان و مسافروں کی چیکنگ

تازہ ترین

ملتان ؛عدالتی حکم عدولی،پولیس خدمت سنٹر میں غیر قانونی اشتہاری بورڈ نصب ،پی ایچ اے بے بس

پی ایچ اے کی جانب سے سی پی اوکودی گئی درخواستوں کاعکس

ملتان ( عامر حسینی سے) ملتان پولیس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے شمس آباد پولیس خدمت سنٹر کی سرکاری عمارت کی حدود میں غیر قانونی ہورڈنگ بورڈ نصب کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) ملتان نے سٹی پولیس آفیسر ملتان صادق ڈوگر کے نام دو مراسلے جاری کئےجو نظرانداز کر دیئے گئے۔ ان خطوط میں غیر قانونی ہورڈنگز ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی مگر پولیس نے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی نہ ہی ان خطوط کا جواب دیا گیا۔ پی ایچ اے کی بار بار درخواستیں بھی کوئی کارروائی نہ کرا سکیں۔ ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ ایڈورٹائزمنٹ پی ایچ اے حافظ محمد اسامہ کی جانب سے پہلا مراسلہ اکتوبر 2024 میں اور دوسرا مراسلہ جنوری 2025 میں جاری کیا گیا جن میں واضح کیا گیا کہ سرکاری عمارت میں لگے یہ ہورڈنگز بورڈ سپریم کورٹ کے احکامات اور 2018 کے نوٹیفکیشن نمبر 27 کی صریحا ًخلاف ورزی ہیں۔ تاہم یہ غیر قانونی ہورڈنگز برقرار رکھے گئے ہیں۔ اس پر پی ایچ اے سے موقف لیا گیا کہ وہ ازخود کارروائی کیوں نہیں کرتے جس پر حافظ محمد اسامہ سے رابطہ کر کے پوچھا گیا تو حافظ اسامہ کا جواب تھا کہ ہم پولیس سے لڑ نہیں سکتے، بے بس اور کمزور ہیں مگر ان سے درخواست ضرور کر سکتے ہیں کہ وہ غیر قانونی ہورڈنگز ہٹا دیں اور وہ کر رہے ہیں۔ سی پی او ملتان آفس نے معاملے پر خاموشی اختیار کر لی۔پولیس کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی تبصرے سے گریز کیا۔یہ واقعہ ملتان میں قوانین کے نفاذ پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ جہاں سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پولیس کیسے از خود غیر قانونی ہورڈنگز نصب کر رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں