ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان میں سرکاری تعلیمی ادارے بھی مبینہ طور پر جعلسازی کے مرتکب ہوتے ہوئے پروفیشنل ڈگریز میں بغیر ایکریڈیشن داخلے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لا قانونیت میں ملتان میں خواتین کیلئے قائم خواتین یونیورسٹی کی ایکٹنگ چارج ہولڈر وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور یونیورسٹی کے ریذیڈنٹ آڈیٹر کاشف رضا کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق غیر قانونی رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کی ڈیپارٹمنٹس اور معیار تعلیم پر توجہ نہ ہونے کی بابت یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان کی جانب سے جاری کئے گئے داخلوں کے اشتہارات کے مطابق بزنس سے متعلقہ ڈگریز کی ایکریڈیشن نہ ہونے کے علاوہ ایجوکیشن سے متعلقہ ڈگریز میں بھی نیشنل ایکریڈیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن کی منظوری کے بغیر غیر قانونی داخلے دھڑلے سے جاری ہیں۔ خواتین یونیورسٹی ملتان جیسا سرکاری تعلیمی ادارہ معصوم طالبات کے ساتھ گھناؤنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔جبکہ اس بارے تعلیمی اداروں کو متعدد بار انتباہ جاری کیا گیا کہ طالبات نجی تعلیمی اداروں کے بعد سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے لینے سے پہلے معلومات لے لیں کہ کیا ان تعلیمی اداروں کے پاس بیچلر ڈگری پروگرامز میں ایجوکیشن سے متعلقہ ڈگریوں کی نیشنل ایکریڈیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن سے ایکریڈیشن یعنی اجازت نامہ موجود ہے یا نہیں تاکہ ایجوکیشن کونسل سے ایکریڈیشن نہ ہونے کی صورت میں داخلہ نہ لینے سے ان کا مستقبل محفوظ رہے۔ روزنامہ قوم طلبا و طالبات کو آگاہی دے رہا ہے کہ وہ ملتان کی خواتین یونیورسٹی ملتان کے بی ایڈ اور ایم فل ایجوکیشن پروگرامز میں داخلے لینے سے پہلے مکمل معلومات حاصل کر لیں تاکہ وہ جعلسازی سے محفوظ رہ سکیں۔ یاد رہے کہ نیشنل ایکریڈیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن کے مطابق ایجوکیشن سے متعلقہ ڈگریوں جن میں بی ایڈ، بی ایڈ انگلش لینگویج ٹیچنگ، بی ایس ایجوکیشن، بی ایس سپیشل ایجوکیشن، ایم اے ایجوکیشن، ایم اے انگلش لینگویج ٹیچنگ، ایم اے ایجوکیشنل لیڈر شپ اینڈ منیجمنٹ، ایم اے ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ اسسیسمنٹ، ایم اے فزیکل ایجوکیشن، ایم اے سپیشل ایجوکیشن، ایم اے ٹیکنیکل ایجوکیشن، ایم ایڈ، ایم فل ایجوکیشن، ایم ایس سی اسلامک ایجوکیشن، پی ایچ ڈی ایجوکیشن، پی ایچ ڈی ایجوکیشنل لیڈر شپ اینڈمینجمنٹ شامل ہیں کو نیشنل ایکریڈیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن سے منظور ہونا لازمی ہے۔ اس کی بابت یونیورسٹیوں کو متعدد بار اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ایجوکیشن سے متعلقہ پروگرامز کو نیشنل ایکریڈیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن سے منظور کروا لیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کسی بھی یونیورسٹی کے غیر منظور شدہ ایجوکیشن سے متعلقہ ڈگری پروگرامز کو تصدیق نہیں کرے گی۔ جس سے ایسی یونیورسٹیوں سے غیر منظور شدہ ایجوکیشن سے متعلقہ گریجویٹس سرکاری اور پرائیویٹ ملازمتوں، بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے اور ان جعلسازی کے مرتکب نجی تعلیمی ادارے ان طلباء و طالبات کے مستقبل تاریک کر رہے ہیں۔ طلباء و طالبات، والدین کو کونسل کی جانب سے تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ہرگز ان اداروں میں ایڈمیشن نہ لیں جن کی ڈگریاں نیشنل ایجوکیشن کونسل سے منظور شدہ نہیں ہیں مگر حیران کن طور پر خواتین یونیورسٹی ملتان کی مندرجہ بالا ڈگری پروگرامز نیشنل ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور شدہ نہ ہیں۔ لہٰذاطلباء و طالبات کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ خواتین یونیورسٹی ملتان کے مندرجہ بالا پروگرامز میں داخلہ لینے سے پہلے تسلی کر لیں تاکہ بعد ازاں پریشانی سے بچا جا سکے ۔اس خبر کے حوالے سے جب خواتین یونیورسٹی ملتان کی ترجمان سے رابطہ کیا گیا کہ اگر ایکریڈیشن موجود ہے تو ڈاکومنٹس مہیا کر دیں تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکیں۔






