ملتان،خان گڑھ(نمائندہ خصوصی،کرائم رپورٹر) ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں قاتل ڈورنے بچے سمیت 2افرادکولہولہان کردیا۔ ملتان میں حکومتی احکامات اور سخت پابندیوں کے باوجود پتنگ بازی کا خونی کھیل تاحال جاری ہےجبکہ پولیس اس خطرناک رجحان کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں خونی ڈور کے باعث شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہی، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔تازہ واقعہ ڈبل پھاٹک پرانا شجاع آباد روڈ کے رہائشی رانا اویس کے ساتھ پیش آیاجو ذاتی کام کے سلسلے میں موٹر سائیکل پر کچہری فلائی اوور سے محمد آرکیڈ کے قریب گزر ر ہاتھا کہ اچانک خونی ڈور ان کے گلے میں آ پھنسی۔ ڈور کے تیز دھار وار سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔واقعہ کے فوری بعد قریبی افراد نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی جبکہ کوتوالی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق ابتدائی طبی امداد کو ترجیح دینے کے بجائے پولیس نے پہلے زخمی شہری کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا بعد ازاں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ واقعہ تھانہ چہلیک کی حدود میں پیش آیا ہے، لہٰذا متاثرہ شہری وہاں جا کر بیان دے۔ذرائع کے مطابق پولیس کے اس غیر سنجیدہ رویے سے دلبرداشتہ ہو کر زخمی شہری رانا اویس نے خود ہی گھر جا کر اپنا علاج شروع کر دیا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کے بجائے اپنی ذمہ داری سے بچنے اور نااہلی چھپانے میں مصروف ہے۔شہریوں اورسماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ فروشی اور خونی ڈور کے استعمال کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔خان گڑھ سے کرائم رپورٹر کےمطابق شہر میں پتنگ بازی کے دوران استعمال ہونے والی کیمیکل ڈور شہریوں کی جان و مال کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ تیز دھار اور مضبوط کیمیکل ڈور نہ صرف موٹر سائیکل سواروں بلکہ راہگیروں کیلئے بھی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔گزشتہ روز 4 سالہ بچے کی گلے پر ڈور پھرنے سے وہ زخمی ہو گیا ۔عینی شاہدین کے مطابق 4چار سالہ موسیٖ نور محمد اپنے کزن کے ساتھ موٹرسائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک ایک تیز دھار ڈور اس کے گلے سے ٹکرا گئی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اہلِ خانہ نے فوری طور پر بچے کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم زخم کافی گہرا تھا، جس کے باعث بروقت علاج نہ ملتا تو صورتحال سنگین ہو سکتی تھی۔ شہر کے مختلف بازاروں اور گلی محلوں میں پتنگیں اور کیمیکل ملی ڈور سرعام فروخت کی جا رہی ہے جبکہ متعلقہ حکام سے کوئی موثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بچے کٹی ہوئی پتنگ پکڑنے کے لیے اکثر چھتوں، بجلی کے کھمبوں اور خطرناک مقامات پر چڑھ جاتے ہیں جس کے باعث کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آنے کا سخت اندیشہ ہےحالانکہ پتنگ بازی اور کیمیکل ملی ڈور پر سخت پابندی عائد ہے۔ اس خطرناک ڈور کےباعث متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ کئی حادثات میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔سماجی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کیمیکل ڈور کی تیاری، فروخت اور استعمال کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ماہرین کے مطابق کیمیکل ڈور میں شیشہ اور خطرناک کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو اسے انتہائی تیز دھار بنا دیتے ہیں جس سے معمولی ٹکراؤ بھی شدید زخم کا باعث بن سکتا ہے۔







