ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب خصوصاً ملتان اور بہاولپور کی سرکاری جامعات اس وقت ایک خطرناک انتظامی بحران کی لپیٹ میں ہیں جہاں ایڈیشنل اور عارضی طور پر تعینات افراد نہ صرف ادارے چلا رہے ہیں بلکہ ایسے بڑے مالی، انتظامی اور پالیسی فیصلے کر رہے ہیں جن کے اثرات آنے والے برسوں میں ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ قوانین، یونیورسٹی ایکٹس اور سروس رولز کو کھلے عام نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ مستقل تقرریوں کے بجائے عارضی بندوبست کو دانستہ طور پر طول دیا جا رہا ہے۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال کی تعیناتی کو ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود کلیدی انتظامی عہدے تاحال عارضی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں۔ رجسٹرار اعجاز احمد 13 ماہ سے، کنٹرولر امتحانات امان اللہ گجر تقریباً سات سال سے اور خزانچی صفدر عباس لنگاہ بھی قریب سات سال سے عارضی حیثیت میں تعینات ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ افسران کھلم کھلا ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو صرف ریگولر افسران کے دائرہ اختیار میں آتے ہیںجس پر اساتذہ اور ملازمین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ خواتین یونیورسٹی ملتان میں صورتحال مزید سنگین بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 1964، 1966 اور 1968 کی مختلف تاریخِ پیدائش اور مبینہ جعلی تجربے کے الزامات کی حامل وائس چانسلر گزشتہ دو سال سے عارضی طور پر تعینات ہیںجبکہ یونیورسٹی میں کرپشن اور لا قانونیت کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسی عارضی وائس چانسلر نے محض دو سال میں چار رجسٹرار عارضی طور پر تعینات کیے جبکہ خزانچی کے عہدے پر صرف 10 دن میں چھ خواتین کو باری باری تعینات کرنا مالی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کنٹرولر کے عہدے پر دو سال سے ایک ہی خاتون کو عارضی بنیاد پر برقرار رکھا گیا ہےجو قواعد کے منافی ہے۔ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں بھی عارضی تعیناتیوں کا راج قائم ہے۔ رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے عارضی طور پر اس عہدے پر تعینات ہیں۔ وائس چانسلرز آتے جاتے رہے مگر رجسٹرار تبدیل نہ ہو سکا جبکہ کنٹرولر اور خزانچی کے عہدوں کا چارج بھی عارضی بنیادوں پر دیا گیا ہےجسے تعلیمی حلقے ادارہ جاتی گرفت کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں۔ ملتان کی ایمرسن یونیورسٹی بھی اس وقت عارضی وائس چانسلر کے زیر انتظام چل رہی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملتان کی ایک بڑی یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر، جن کا تدریسی تجربہ نہایت محدود بتایا جاتا ہے، خود اس یونیورسٹی کے ریگولر وائس چانسلر کے امیدوار ہیں جسے تعلیمی حلقے مفادات کے سنگین ٹکراؤ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بہاولپور کی چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں بھی انتظامی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر مظہر ایازجو مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے ذریعے اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسر بنے اور بعد ازاں پرو وائس چانسلر کے عہدے تک پہنچے، اس وقت عارضی وائس چانسلر کے طور پر قابض ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی موجودہ تباہ حالی میں ان کے فیصلوں کا کردار مرکزی بتایا جا رہا ہے۔ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں بھی انتظامی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ریگولر وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم نے رجسٹرار کے عہدے کے لیے اخبار میں اشتہار تو دیامگر ذرائع کے مطابق اسی عہدے پر پہلے سے عارضی طور پر تعینات ڈاکٹر صائمہ انجم خود بھی امیدوار ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کی پہلی تعیناتی مبینہ طور پر بغیر کسی اخبار اشتہار کے ہوئی تھی، اور اب وہ عارضی حیثیت میں رہتے ہوئے من مانے اور کھلے فیصلے کر رہی ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق عارضی یا ایڈیشنل تعیناتی کا مقصد محض روزمرہ امور چلانا ہوتا ہے، نہ کہ طویل المدتی مالی اور پالیسی فیصلے کرنا۔ مگر جنوبی پنجاب کی جامعات میں عارضی افراد کو مستقل حکمران بنا دیا گیا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے گورنر پنجاب بطور چانسلر، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ فورمز سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان معاملات کا نوٹس لیا جائے، تمام عارضی تعیناتیوں کا آڈٹ کیا جائے، شفاف اور میرٹ پر ریگولر تقرریاں عمل میں لائی جائیں بصورت دیگر اعلیٰ تعلیم کا یہ نظام مکمل انہدام سے دوچار ہو سکتا ہے۔






