پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام آئین کے مطابق ریاستی ڈھانچے کی بنیاد ہے، لیکن عملی طور پر یہی بنیاد سب سے زیادہ کمزور، نظر انداز اور معطل رکھی جاتی ہے۔ پنجاب ہو، اسلام آباد ہو یا بلوچستان، ایک ہی ذہنیت مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ سامنے آتی ہے: عوام کو براہِ راست بااختیار بنانا حکمران طبقوں اور مقتدر اداروں کے مفاد میں نہیں، اس لیے مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی یا نامزد منتظمین کے ذریعے نظام چلانا زیادہ پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب میں برسوں سے بلدیاتی ادارے تحلیل ہوکر انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہیں، کبھی نئی حلقہ بندیوں کا بہانہ، کبھی مردم شماری کے نتائج کا انتظار، کبھی مالی وسائل کی کمی، تو کبھی امن و امان کا عذر؛ اسلام آباد میں بھی یونین کونسلوں کے انتخابات کو کبھی حلقہ بندی کا مسئلہ، کبھی اختیارات کی تقسیم اور کبھی آئینی موشگافیوں کے نام پر مؤخر کیا جاتا رہا۔ یہ تاخیر محض انتظامی الجھن نہیں بلکہ اس سوچ کا اظہار ہے جو مقامی جمہوریت کو طاقت کی مرکزیت کے خلاف سمجھتی ہے۔ جب صوبائی حکومتیں اور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اپنے پاؤں تلے سے عوامی نگرانی، سوال اور احتساب کی زمین کھینچ لینے میں ہی عافیت محسوس کریں تو مقامی حکومتیں لازماً غیر ضروری بوجھ تصور ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بلدیاتی ادارے بن بھی جائیں تو ان کے اختیارات، مالی خود مختاری اور انتظامی قوت اس حد تک کمزور رکھی جاتی ہے کہ وہ محض نام کے نمائندہ فورم بن کر رہ جائیں۔پنجاب میں بار بار دیکھا گیا کہ جب بھی بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ قریب آیا تو یا تو منتخب کونسلیں قبل از وقت توڑ دی گئیں، یا نئے قانون کے نام پر پورے نظام کو ہی تحلیل کر دیا گیا، اور سالہا سال تک سرکاری منتظمین کے ذریعے شہروں، قصبوں اور دیہات کی ساری بلدیاتی مشینری چلائی جاتی رہی۔ اسلام آباد میں بھی شہری سطح پر نمائندگی کے بجائے وفاقی وزارتِ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ حکمرانی کو ترجیح دی گئی۔ اس پورے عمل میں ایک واضح پیغام عوام تک بار بار پہنچایا گیا کہ حقیقی طاقت اوپر ہے، نیچے تک اسے منتقل کرنے کا کوئی سنجیدہ ارادہ موجود نہیں۔ یہ رویہ نہ صرف آئین کی روح کے منافی ہے بلکہ وفاقی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کرنے کا ذریعہ بھی ہے، کیونکہ وفاق کی مضبوطی ہمیشہ نچلی سطح پر مضبوط، جواب دہ اور فعال مقامی حکومتوں سے جنم لیتی ہے، نہ کہ فائلوں پر دستخط کرنے والے خفیہ منتظمین سے۔اسی پس منظر میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کو روکے رکھنے کی تازہ کوشش کو دیکھنا ناگزیر ہے۔ یہاں بھی کہانی مختلف نہیں، چہروں اور الفاظ میں فرق ہے مگر سوچ وہی پرانی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سر فراز بگٹی نے الیکشن کمیشن پاکستان میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے انتخابات، جو اٹھائیس دسمبر کو ہونا طے تھے، کو مؤخر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ وجہ وہی روایتی بیان کی گئی: امن و امان کی خراب صورتحال، انٹرنیٹ سروس کی معطلی، اور سردیوں میں آبادی کی نقل مکانی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے والوں کا کم ہو جانا۔ اس سے قبل بھی صوبائی حکومت کی طرف سے اسی نوعیت کی درخواست کی جا چکی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا۔ مزید برآں، بلوچستان ہائی کورٹ واضح طور پر حکم دے چکی ہے کہ بلدیاتی انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں، اور اسی عدالتی حکم کے پس منظر میں الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران تعینات کیے، شیڈول جاری کیا، بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع ہوئی اور کوئٹہ کی ایک سو بہتر یونین کونسلوں اور چھ سو اکتالیس وارڈوں میں دو ہزار سات سو دس امیدوار انتخابی عمل میں کود پڑے۔اس مرحلے پر وزیر اعلیٰ کی درخواست محض انتظامی تحفظات کے اظہار کے بجائے ایک سیاسی پیغام بھی دیتی ہے کہ صوبائی حکمران ابھی تک منتخب بلدیاتی اداروں کے وجود کو دل سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر امن و امان واقعی اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ انتخابات ممکن نہیں تو پھر روزمرہ زندگی، بازار، دفاتر، تعلیمی ادارے اور حکومتی سرگرمیاں کیسے جاری ہیں؟ سردیوں میں آبادی کی نقل مکانی بلوچستان کی جغرافیائی اور معاشی حقیقت ہے، یہ کوئی نیا واقعہ نہیں جو پہلی بار پیش آیا ہو۔ اگر یہ بنیاد انتخابات مؤخر کرنے کے لیے کافی ہے تو پھر ہر سال انہی مہینوں میں ہر طرح کا انتخاب روک دیا جائے، جو نہ آئین مانتا ہے نہ جمہوری عقل۔ دراصل امن و امان اور موسمی مشکلات ایسے قابلِ توجیہ الفاظ ہیں جن کے پیچھے اصل خوف عوامی اختیار اور جواب دہی سے وابستہ ہے۔بلوچستان میں مقامی حکومتوں کی تاریخ خود اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی عوامی سطح پر نمائندہ ادارے فعال ہونے لگتے ہیں، طاقت کے مرکزی مراکز میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ دو ہزار پندرہ میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں نے جب کچھ حد تک اپنے اختیارات استعمال کرنے شروع کیے تو ان کی مدت ختم ہونے کے بعد آئینی تقاضے کے مطابق ایک سو بیس دن میں نئے انتخابات کرانے کے بجائے تین سال سے زیادہ تاخیر کی گئی اور نئے انتخابات دو ہزار بائیس کے مئی میں کرائے گئے۔ کوئٹہ اور لس بیلہ جیسے اضلاع میں تو حلقہ بندیوں اور مقدمات کے نام پر مزید التوا کا سلسلہ چلتا رہا۔ لس بیلہ میں تو بالآخر دو ہزار بائیس کے آخر میں انتخاب ہو گیا، مگر کوئٹہ میں حلقہ بندی کے تنازعات کی وجہ سے عدالتی کارروائی اور انتظامی سستی نے مل کر ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے بھرنے میں برس گزر گئے۔ اب جب بالآخر آئینی تقاضے کے مطابق انتخابی عمل شروع ہوا تو ایک بار پھر اسے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سوچ کا تسلسل ہے۔بلوچستان جیسے پسماندہ اور وسائل سے محروم صوبے میں بلدیاتی اداروں کی اہمیت دیگر صوبوں سے دو چند ہے۔ یہاں سڑک، پانی، نکاسی، صفائی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل براہِ راست مقامی سطح کی منصوبہ بندی اور نگرانی سے جڑے ہیں۔ جب عوام اپنے محلے، گاؤں اور شہر کے نمائندوں کو خود منتخب کرتے ہیں تو مسائل کی ترجیحات، منصوبوں کی شفافیت اور وسائل کی تقسیم میں براہِ راست شمولیت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہی علاقوں میں سال ہا سال تک نامزد منتظمین، بیوروکریٹس یا سیاسی حکومتوں کے پسندیدہ افراد کے ذریعے نظام چلایا جائے تو وہ عوام کو جواب دہ ہونے کے بجائے اوپر کی طاقتوں کو مطمئن کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بدعنوانی، لاپرواہی، اقربا پروری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا جال مزید گہرا ہوتا جاتا ہے، اور عام آدمی کے لیے ریاست ایک ایسی دیوار بن جاتی ہے جس کے پار اس کی آواز نہیں پہنچتی۔کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوشش کو اگر ہم پنجاب اور اسلام آباد کے تجربات کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ایک مشترک رجحان سامنے آتا ہے کہ طاقت کے مراکز — چاہے وہ صوبائی حکومتیں ہوں، وفاقی وزارتیں ہوں یا دیگر مقتدر حلقے — مقامی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے سے خائف ہیں۔ انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر یونین کونسلوں، ٹاؤنز اور میٹروپولیٹن کارپوریشنوں کے نمائندے حقیقی اختیار اور وسائل کے ساتھ سامنے آ گئے تو وہ نہ صرف مقامی سطح پر طاقت کا متبادل مرکز بن جائیں گے بلکہ صوبائی اور قومی سطح کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی حکومتوں کو کبھی مالی طور پر کمزور رکھا جاتا ہے، کبھی انتظامی طور پر، اور جب کوئی راستہ نہ بچے تو انتخابات ہی مؤخر کر دیے جاتے ہیں۔اس رویے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں جہاں پہلے ہی مرکز اور صوبے کے درمیان بیگانگی کی فضا موجود ہے، وہاں مقامی نمائندگی کا خلا مزید بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ جب کوئٹہ کے شہری دیکھتے ہیں کہ ان کے شہر میں کئی برس سے بلدیاتی ادارے مکمل طور پر فعال نہیں ہو پا رہے، عدالت کے حکم کے باوجود انتخابات مؤخر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اور صوبائی حکومت حالات کی خرابی کو دلیل بنا کر عوامی حقِ رائے دہی کو پیچھے دھکیل رہی ہے، تو ان کے ذہن میں یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اس صوبے کے لوگوں کو صرف بطور ووٹر گنا جاتا ہے، بطور فیصلہ ساز نہیں۔ ایسی فضا میں سیاسی عمل کمزور اور غیر نمائندہ قوتیں مضبوط ہوتی ہیں، جو کسی بھی وفاقی ریاست کے لیے خطرناک ہے۔مقامی حکومتوں کے مخالفین اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ امن و امان، مالی وسائل اور انتظامی سکت کے مسائل کے ہوتے ہوئے بلدیاتی نظام کو پوری قوت سے چلانا ممکن نہیں۔ لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جہاں کہیں مقامی اداروں کو کچھ حقیقی اختیار اور وسائل ملے، وہاں نہ صرف خدمتِ خلق کا معیار بہتر ہوا بلکہ صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی مثبت دباؤ پڑا۔ بلوچستان میں بھی کئی اضلاع میں بلدیاتی نمائندوں نے اپنی محدود طاقت کے باوجود ایسے کام کیے جو عوام کی نظر میں نمایاں رہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ مقامی سطح پر اپنے نمائندوں کے منتظر ہیں۔ اگر انہی انتخابات کو بار بار ملتوی کیا جائے گا تو رفتہ رفتہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بھی مجروح ہوتا رہے گا اور وہ دیگر، غیر آئینی یا غیر جمہوری راستوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوں گے، جو کسی کے لیے بھی نافع نہیں۔الیکشن کمیشن اور عدالتوں کا کردار اس تناظر میں نہایت اہم ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کا حکم اور الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلے کی درخواست مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام کے اندر بھی کچھ قوتیں ہیں جو آئین اور قانون کی عمل داری کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مگر اگر سیاسی حکومتیں بار بار انہی فیصلوں کے مقابل نئی درخواستیں لے کر آئیں، یا انتظامی جواز تراش کر انتخابی عمل کو روکنے کی کاوش کریں تو خود ریاستی اداروں کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا آئین اور قانون صرف کمزوروں کے لیے ہیں، جب کہ حکمران طبقہ اپنے مفاد کے لیے ہر اصول کو بدلنے کا حق محفوظ رکھتا ہے؟ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو سب سے زیادہ نقصان اسی سوچ نے پہنچایا ہے جو طاقت کو اوپر سے نیچے منتقل کرنے کے بجائے نیچے سے اوپر کھینچنے میں یقین رکھتی ہے۔ صوبوں کو وسائل اور اختیارات دینا مشکل، اور صوبوں کے اندر اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کو طاقت دینا اس سے بھی زیادہ مشکل بنا دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ملک کی بڑی اکثریت اپنے روزمرہ مسائل کے لیے ایسے لوگوں کی طرف دیکھتی ہے جو ان کے ووٹ سے نہیں بلکہ کسی حکومتی حکم نامے سے مسلط کیے گئے ہوتے ہیں۔ یہ عدم توازن نہ صرف جمہوری عمل کو کمزور کرتا ہے بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی مسلسل کھوکھلا کر رہا ہے۔کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صورتحال یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر ملک نے واقعی ایک مضبوط، مستحکم اور نمائندہ جمہوری نظام کی طرف بڑھنا ہے تو سب سے پہلے مقامی حکومتوں کے بارے میں ذہن بدلنا ہوگا۔ جب تک پنجاب، اسلام آباد، بلوچستان اور دیگر صوبوں میں مقامی حکومتوں کو آئینی تقاضے کے مطابق بااختیار، مستقل اور بلا تعطل منتخب ہونے والا نظام نہیں بنایا جائے گا، تب تک وفاق مضبوط نہیں ہوگا، صوبائی خود مختاری محض نعرہ رہے گی اور عام شہری کے لیے جمہوریت ایک دور کی چیز محسوس ہوتی رہے گی۔ طاقت کے مراکز اگر واقعی اس ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں مقامی جمہوریت سے خوف کے بجائے اعتماد پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ اسی راستے سے ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ نئے اور مضبوط عمرانی معاہدے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔






