ملتان(سٹاف رپورٹر)آر پی او بہاولپور کے احکامات سے لائن حاضر ہونے والےکچےکے علاقے میں تعینات تھانیدار نویدنواز واہلہ اور سیف اللہ ملہی کی لائن حاضری محض کاغذی کارروائی تک ہی محدود رہی ۔ بہاولپوررینج میں کئی سالوں سے یہ پریکٹس چل رہی ہے کہ لائن حاضر ایس ایچ او اگر منظور نظر ہو تو اس کی صرف کرسی تبدیل ہوتی ہے اور لائن حاضر ہونے والوں کی جگہ ڈمی ایس ایچ او لگا کر تمام تر کنٹرول اور سودے بازی کاغذات میں معطل شدہ ایس ایچ او حضرات ہی کرتے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال رحیم یار خان میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں جرائم پیشہ تھانیدار معطلی کے دوران اپنے اپنے تھانوں میں کنٹرول جاری رکھے ہوئے ہیں ۔سیف اللہ ملہی نے بہاولپور میں پی سی ایس اور دیگر محکمانہ امتحانات دینے والے امیدواروں کو نقل کرانے کے لیے ایک گینگ بنا رکھا تھا ۔ بہاولپور کے کوہ نور ہوٹل کے ایک کمرے سے سابق ایس ایچ او غلام رسول بھٹی نے چھاپہ مار کر نہ صرف نقل کرانے والوں کو پکڑا بلکہ وہ تمام ڈیوائسز بھی تحلیل میں لے لیں جن کے ذریعے ایس ای کالج بہاولپور کے امتحانی سنٹر میں پی سی ایس کے تحریری امتحان دینے والوں کو پرچے حل کرائے جا رہے تھے ۔سیف اللہ ملہی کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ بھی درج ہے۔ ایک بااعتماد ذریعہ نے بتایا کہ نوید نواز واہلہ اور سیف اللہ ملہی سے پولیس افسران اسلئے بھی کنی کتراتے اور خوف کھاتے ہیں کہ دونوں کھڈے لائن ہوں یا پھر انہیں پسند کی پوسٹنگ نہ ملے تو یہ امن و امان میں خلل ڈالنے کے لیے ایسی کارروائیاں کراتے ہیں اور جرائم کی روک تھام کیلئے ضلعی پولیس افسران کو مجبوری میں انہی کو ذمہ داریاں دینی پڑتی ہیں اور جونہی انہیں ٹارگٹ دیا جاتا ہے یہ اپنے لوگوں کو دوبارہ پس منظر میں لے جاتے ہیں۔






