مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ) ضلعی انتظامیہ کے عید الفطر کے انتظامات سے متعلق دعووں کا بھانڈا آڈٹ رپورٹ نے پھوڑ دیا۔ سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی تھی کہ سابقہ ڈپٹی کمشنر میان عثمان علی نے عید کے تمام اخراجات اپنی جیب سے 25 ہزار روپے ادا کر کے خزانے کو لاکھوں روپے کی بچت دی مگر مالی سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ نے مکمل طور پر مختلف حقیقت سامنے رکھ دی۔آڈٹ ریکارڈ کے مطابق عیدین کے نام پر 5 ملین روپے سے زائد رقم غیر قانونی طور پر نکلوائی گئی جس میں وہ اخراجات بھی شامل ہیں جن کا نہ کوئی اجازت نامہ موجود ہے اور نہ ہی قواعد کے مطابق کوئی بروقت فائلنگ۔ حیران کن طور پر یہ تمام کارروائیاں اس مدت میں ہوئیں جب ضلعی مالی معاملات براہِ راست ڈسٹرکٹ ناظر راشد شیروانی اور انتظامی اختیارات سابقہ ڈی سی عثمان علی کے پاس تھے۔ذرائع کے مطابق متعدد بلز بے بنیاد، کئی اندراجات مشکوک اور بعض ادائیگیاں بغیر تقاضے کے ظاہر کی گئیںجبکہ شہر بھر میں عید نماز کے لیے پہلے ہی مساجد فعال اور انتظامات مکمل تھے۔ شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب عملی طور پر کسی اضافی انتظام کی ضرورت ہی نہیں تھی تو لاکھوں روپے آخر کیوں اور کس مقصد کے لیے خرچ دکھائے گئے؟سول سوسائٹی اور شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ناظر سمیت تمام ذمہ دار افسران سے جواب طلبی کی جائے۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سابقہ ڈپٹی کمشنر کے دور میں یہ مالی بے ضابطگیاں ثابت ہو جاتی ہیں تو یہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کا کھلا مذاق ہے۔مزید برآں اعلیٰ حکام نے ابتدائی طور پر ریکارڈ طلب کر لیا ہے جبکہ متعلقہ افسران کی جانب سے غیر رسمی وضاحتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عوامی حلقے اس معاملے کی مکمل چھان بین، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور غیر قانونی ادائیگیوں کی ریکوری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔







