مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ / عامر اسماعیل چانڈیہ بلوچ)ضلع کونسل مظفرگڑھ کے متعدد افسران آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد اچانک دفتر چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ کونسل آفس پر تالہ لگا ہوا ہے جبکہ معمول کی فائلوں اور سرکاری دستاویزات تک رسائی بند کر دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے منظرِ عام آنے والی آڈٹ رپورٹ میں دو ارب پچھتر کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن، جعلی سکیموں اور غیر قانونی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔ رپورٹ کے منظرِ عام پر آتے ہی متعلقہ افسران نے تحقیقاتی اداروں کی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے دفتر بند کر دیا اور چھٹیاں لےکر کر روپوش ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق ڈسٹرکٹ ناظر راشد شیروانی، اکاؤنٹنٹ سیکشن کے چند اہلکار اور کچھ ٹھیکیداروں سے قریبی تعلق رکھنے والے کلرک دفتر نہیں آئے۔ عملہ آپس میں یہ کہتا سنا گیا کہ’’تحقیقات شروع ہوتے ہی سب کچھ کھل جائے گا‘‘۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور آڈیٹر جنرل پنجاب کے نمائندے جلد ریکارڈ قبضے میں لینے کے لیے مظفرگڑھ پہنچنے والے ہیں۔ بعض افسران نے اپنے قریبی لوگوں کے ذریعے پرانے ریکارڈ اور بلز چھپانے کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہی افسران سابق ڈی سی میاں عثمان علی کے دورِ تعیناتی (\2023–2024) میں بھی متنازع منصوبوں اور غیر قانونی اخراجات میں شریک تھے۔ اس وقت کی آڈٹ رپورٹ اور روزنامہ قوم کی تحقیقات نے ان کی شمولیت کو واضح طور پر بے نقاب کیا تھا۔ اس پس منظر میں، موجودہ صورتحال قومی خزانے پر پہنچنے والے نقصان کی گہری عکاسی کرتی ہے اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مفرور افسران کی فوری گرفتاری اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔







