مظفرگڑھ ضلع کونسل میں بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن چھاپوں کے بعد دفاتر کو تالے، افسران روپوش

مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ) ضلع کونسل مظفرگڑھ میں انتظامی بے ضابطگیوں کے مزید انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ اینٹی کرپشن کے چھاپوں کے بعد متعدد افسران دفاتر کو تالے لگا کر روپوش ہو چکے ہیں جبکہ دفتری امور عملی طور پر معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ریکوری میں محکمانہ سزا یافتہ اور معطل سابقہ کلرک پتن، جو گرفتار بھی رہ چکا ہے اور جس کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے، اس وقت آف دی ریکارڈ چیف آفیسر کے پی اے کے طور پر دفتری امور سرانجام دے رہا ہے۔ معطل ہونے اور تنخواہ بند ہونے کے باوجود اس کا سرکاری دفتر میں بیٹھنا انتظامی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔مزید معلوم ہوا ہے کہ ضلع کونسل کے متعدد افسران اینٹی کرپشن کی کارروائیوں کے خوف سے ضلع سے باہر چلے گئے ہیں اور دفاتر پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ دفتری گاڑیاں اندر بند ہیں جبکہ تیل کی پرچیاں درجہ چہارم کے ملازمین لقمان اور یسین خان کے ذریعے جاری کی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یسین خان نہ تو نوکری پر بحال ہے اور نہ ہی اسے کوئی سرکاری ذمہ داری دی گئی ہے، اس کی تنخواہ بھی بند ہے۔ اس کے باوجود وہ پی اے کی کرسی پر بیٹھ کر فائلیں نمٹا رہا ہے اور روزانہ خانگڑھ سے مظفرگڑھ آنے جانے کے لیے سرکاری پیٹرول استعمال کر رہا ہے، جس پر تقریباً تین ہزار روپے یومیہ خرچ ہو رہا ہے۔چیف آفیسر ضلع کونسل مظفرگڑھ وقار گجر سے موقف لیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ تیل کا انچارج منیر سب انجینئر ہے اور یسین خان کو نہ بحال کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کسی قسم کی ڈیوٹی سونپی گئی ہے۔ جب ان کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ یسین خان دفتری کرسی پر بیٹھ کر کام کر رہا ہے اور سرکاری وسائل استعمال کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ معاملے کی فوری طور پر جانچ کروائیں گے کہ وہ دفتر میں کس طرح بیٹھا ہوا ہے۔دفاتر پندرہ روز سے اینٹی کرپشن کے چھاپوں کے خوف سے تالے لگا کر بند پڑے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں