مظفرگڑھ(بیورورپورٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکےستھرا پنجاب پروگرام میں کرپشن در کرپشن کا سلسلہ عروج پکڑ گیا ۔کوڑے کے وزن کو ریت سے پورا کرنے کے ساتھ ساتھ پروگرام میں ا ستعما ل ہونے والی گاڑیوں کو گھٹیا ترین اور مقرر کردہ مقدار سے کم فیول دیا جانے لگا ہے۔کوڑا بھری ٹرالیاں اور رکشے مرکزی سڑکوں پر بندہوجاتےہیں، عملہ دھکا لگا کر کوڑا ڈمپ کرنے پر مجبور ہو گیا ۔اس حوالے سےموجودریکارڈکےمطابق دسمبر 2025 تک ستھرا پنجاب پروگرام ڈائریکٹ گاڑیوں کا فیول مہیا کر رہا تھا مگر جنوری 2026 سے فیول مہیا کرنے کا ٹھیکہ نواحی علاقے بصیرہ کے رہائشی سہیل شیرانی کو دیا گیا۔ انہوںنے ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کو دو نمبر سے بھی آگے کے لیول کا گھٹیا فیول مہیا کرنے کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے اور ساتھ میں مختلف گاڑیوں کو متعین کردہ مقدار سے بھی کم تیل دیا جا رہا ہے۔ درج ذیل گاڑیوں کو اس مقدار میں فیول دیا جا رہا ہے۔ کرین کو روزانہ 50 لیٹر تیل مہیا کرنا ہوتا ہے جبکہ ٹھیکیدار 22 لیٹر تیل دے رہا ہے۔ اسی طرح سے ٹریکٹر ٹرالیوں کو 14 لیٹر کے بجائے چھ لیٹر باکٹ کرین کو 12 لیٹر کے بجائے سات لیٹر، رکشوں کو چار لیٹر کے بجائے ایک لیٹر فیول مہیا کر کے ستھرا پنجاب کو مہانہ لاکھوں کا ٹیکا لگایا جا رہا ہے۔







