مظفرگڑھ(سمیعہ فیض سیال سے)وزیراعلیٰ پنجا ب مریم نوازکے ستھرا پنجاب ویژن کو مظفرگڑھ میں ستھری کرپشن کے ذریعے پورا کرنے کا طریقہ کار اپنا لیا گیا ۔کرپٹ مافیا نے کوڑے کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا کر دو نمبری شروع کر دی۔ کوڑے کا وزن پورا نہ ہونے پر قریبی ریت کے ٹیلوں کو کوڑا میں شامل کرنا شروع کر دیا۔ بسوں کے اڈے کے قریب ریت کے ٹیلے صفحہ ہستی سے ختم جبکہ قریبی میدان کا حجم بڑھنے لگا ۔تفصیلات کے مطابق ستھرا پنجاب کو ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ڈی ڈبلیو ایم سی کو پایا تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی ہے جس میں تحصیل مظفرگڑھ میں ڈی ڈبلیو ایم سی کو روزانہ 6 ٹن کا ہدف پورا کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ کمپنی کو فی ٹن کے حساب سے حکومت پنجاب ادائیگی کر رہی ہے لیکن 600 ٹن روزانہ کا ہدف پورا نہ ہونے پر کمپنی نے ایکو بسوں کے اڈے کے قریب ٹی سی پی ایریا میں جہاں پوری تحصیل کا کوڑا اکٹھا کرنے کے بعد فضل ملز جھنگ روڈ پر موجود ایک کنڈے پر وزن تولنے کے لیے بھیجا جاتا ہے پھر وہاں سے ٹی سی پی ایریا سے آگے تھرمل کے پاس موجود ایل ایف ایس ایریا میں ڈمپ کر دیا جاتا ہے وہاں پر تحصیل منیجر عادل سپہ اورریجنل منیجر محمد شاہد زمان کی زیر نگرانی اور ڈی ڈبلیو ایم سی کے ملازمین حیدر علی اور شکیل کے ذریعے وزن پورا کرنے کے لیے ڈمپرز میں یا کٹ کرین کے ذریعے ٹیلوں سے ریت اٹھا کر ڈمپر بھرنے کا کام شروع کر رکھا ہے ایک ڈمپر میں 30 سے 35 ٹن وزن ہوتا ہے پہلے کرین کے ذریعے ڈمپر بھر لیے جاتے ہیں اور اس ریت پر بھر چھوٹے ملازمین کے ذریعے اوپر نظر انے والے حصے پر کوڑے کی تہہ لگا کر اوپر ترپال ڈال کر وزن کے لیے کنڈے پر بھیج دیا جاتا ہے اور وہاں سے اسے ایل ایف ایس ایریا میں ڈمپ کر دیا جاتا ہے یہ کام علی الصبح ڈمپرز کو ریت سے بھرنے کا کام شروع کر دیا جاتا ہے اور ایک بجے تک اس ریت بھرنے کے کام کو مکمل کر لیا جاتا ہے جبکہ ڈی ڈبلیو ایم سی کے تین ملازمین اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ کوئی ریت بھرنے کی کارروائی کی تصاویر نہ بنا سکے جبکہ روزنامہ قوم نے اس سارے عمل کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر لی ہیں اس حوالے سے تحصیل منیجر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔







