پاکستان کی جانب سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے ساتھ دفاعی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں وسعت کی کوششیں ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔ ان تعلقات میں جو چیز نمایاں ہے وہ ان کی وسعت اور تنوع ہے۔ پاکستان ایک جانب تنازعات کا شکار ممالک سے روابط قائم کر رہا ہے تو دوسری طرف خلیجی بادشاہتوں سے بھی قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے۔ تاہم، اس نئی حکمت عملی میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جو غور طلب ہے: آیا پاکستان ان تعلقات کے نتیجے میں خطے میں اپنی خارجہ پالیسی اور ریاستی طرز حکمرانی کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہا ہے یا یہ صرف وقتی فوائد کے حصول کی ایک مہم ہے۔
پاکستان کے خلیجی ممالک سے تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے سیاسی، معاشی اور فوجی روابط عشروں پر محیط ہیں۔ تاہم، حالیہ عرصے میں دفاعی تعاون میں جو وسعت آئی ہے، وہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی حکمت عملی میں نئی ترتیب اور عملی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو یا متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہ پاکستان، یہ سب اقدامات اسی تبدیل شدہ زاویے کی علامت ہیں۔
پاکستان کی یہ حکمت عملی صرف دفاعی سازوسامان کی فروخت تک محدود نہیں بلکہ یہ ریاستی طرز حکمرانی کے مختلف ماڈلز کے مشاہدے اور مطالعے کی بھی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب خلیج اور شمالی افریقہ کے کئی ممالک اندرونی خلفشار، نظریاتی تقسیم اور جغرافیائی تنازعات کا شکار ہیں، پاکستان کا ان کے ساتھ دفاعی شراکت داری میں بڑھتا ہوا کردار اسے ان ممالک کے سیاسی منظرنامے میں ایک مؤثر کردار کی جانب دھکیل رہا ہے۔
سوڈان کی مثال واضح ہے جہاں سعودی عرب سوڈانی فوج کی حمایت کر رہا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات ریپڈ سپورٹ فورسز کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ پاکستان، دفاعی تعاون کے ذریعے، سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ ایک صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ حکمت عملی اگرچہ رسمی سطح پر غیر جانبدار دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقتاً یہ پاکستان کو ایک طرف جھکنے والا ملک ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح لیبیا میں پاکستان نے مشرقی لیبیائی قیادت فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے ساتھ کھلی شراکت داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی لیبیا میں حفتر سے ملاقات اور اس کے بعد دفاعی معاہدہ، جو اقوام متحدہ کی ہتھیاروں کی پابندی کے باوجود طے پایا، ایک بڑی پیش رفت تھی۔ یہ ملاقات نہ صرف علامتی اہمیت رکھتی تھی بلکہ اس کے ذریعے پاکستان نے خلیجی سیاسی پیچیدگیوں میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اس دفاعی شراکت داری کا فائدہ جہاں فوجی سازوسامان کی برآمدات میں اضافے کی صورت میں مل رہا ہے، وہیں اس سے ملک کے لیے مالی اور سفارتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ تاہم، یہ حکمت عملی اپنے ساتھ کئی سوالات بھی لاتی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ یہ تعلقات کتنے دیرپا ہوں گے؟ ان شراکت داریوں کے طویل المدتی نتائج کیا ہوں گے؟ کیا پاکستان ان معاہدات کے ذریعے کسی بڑے سفارتی جال میں پھنسا دیا جائے گا؟
اس نئے تعلقاتی دھارے کے ذریعے پاکستان اپنی حیثیت کو خلیجی ریاستوں کے لیے ایک مفید شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس صورت حال میں اپنی خود مختاری کو مکمل طور پر برقرار رکھ سکے گا؟ کیا یہ تعلقات محض وقتی مفادات کے حصول کے لیے ہیں یا ان کا کوئی وسیع تر قومی مفاد بھی ہے؟
پاکستان کے ریاستی ڈھانچے اور طرز حکمرانی میں وہی ساختیاتی کمزوریاں موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کو درپیش ہیں۔ ان ممالک میں اکثر طاقتور سیکیورٹی ادارے، کمزور جمہوری ڈھانچے، اور مختلف مذہبی، نسلی اور ثقافتی تقسیمیں موجود ہیں جنہیں طاقت کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں جب یہ اختلافات کسی نہ کسی صورت میں ابھرتے ہیں تو وہ پرتشدد شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
فواز جرجس جیسے محققین کی رائے ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بحران صرف زمینی تنازعات تک محدود نہیں بلکہ یہ نظریاتی، ثقافتی اور ادارہ جاتی نوعیت کا ہے۔ ریاستیں جب اپنے تحفظات اور خارجی تعلقات کو ترجیح دیتے ہوئے داخلی اصلاحات کو نظر انداز کرتی ہیں تو یہ حکمت عملی دیرپا امن اور استحکام کے لیے زہر قاتل بن جاتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بھی فوری مالی فوائد، خارجہ حمایت اور علاقائی اثرورسوخ حاصل کرنے کے لیے انہی ماڈلز کو اپناتا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس حکمت عملی سے وقتی فائدے حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن یہ طویل المدتی خطرات سے خالی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی اور سیاسی تاریخ میں جذبات سے زیادہ مصلحتوں اور مفادات کا غلبہ رہا ہے۔ اگر پاکستان کو اس خطے میں اپنے تعلقات کو مستحکم رکھنا ہے تو اسے ایک توازن پیدا کرنا ہوگا۔ اسے ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو نہ صرف وقتی فوائد کی بنیاد پر ہوں بلکہ قومی مفاد، خودمختاری، داخلی استحکام اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کو بھی مدنظر رکھتے ہوں۔
پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں اپنی سفارتی موجودگی کو مفاد پرستی کی بجائے اصولی حکمت عملی کے تحت استوار کرنا ہوگا تاکہ وہ خطے میں ایک خودمختار، متوازن اور پائیدار کردار ادا کر سکے۔
پاک افغان سرحدی کشیدگی: الفاظ سے عمل کی طرف سفر
افغان طالبان کے سرکردہ رہنما سراج الدین حقانی کا یہ بیان کہ افغانستان کسی ریاست کے لیے خطرہ نہیں اور بات چیت کے دروازے خلوص نیت کے ساتھ کھلے ہیں، بظاہر ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔ پاکستان مسلسل اس دعوے کو سنے چکا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر اس کے باوجود پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں شدت بھی دیکھی گئی ہے۔
حال ہی میں کرک میں پولیس اہلکاروں پر حملہ، جس میں پانچ اہلکار شہید ہوئے، اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان طالبان کی یقین دہانیاں محض زبانی جمع خرچ ہیں۔ پاکستان نے بارہا کابل سے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کو لگام ڈالے گا، مگر کابل کی جانب سے مسلسل انکار اور پس و پیش نے دونوں ممالک کے تعلقات کو سرحدی جھڑپوں اور تجارتی راستوں کی بندش جیسے اقدامات کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اکتوبر سے طورخم اور چمن جیسے اہم سرحدی راستے بند پڑے ہیں، جس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہوئے ہیں بلکہ سرحدی علاقوں کے عوام بھی شدید معاشی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔
دوستانہ ممالک کی ثالثی کی کوششیں بھی اس جمود کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ طالبان کا مسلسل اصرار کہ وہ دوحہ معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹوں اور دیگر آزاد ذرائع سے موصولہ اعداد و شمار کی روشنی میں ایک بے بنیاد دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ حالیہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ میں ایک بار پھر واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مسلح گروہوں کی موجودگی کا انکار ناقابلِ اعتبار ہے۔ رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ محض کسی بڑے واقعے کے بعد دباؤ ڈالنے یا عارضی سفارتی کوششوں سے کوئی دیرپا حل ممکن نہیں۔ جوابی کارروائی یا محاذ آرائی کی حکمت عملی نہ صرف مسئلہ کو طول دے گی بلکہ سرحدی معیشت کو مزید تباہ کرے گی اور دونوں ممالک کے عوام میں بداعتمادی کو فروغ دے گی۔ اگر واقعی سراج الدین حقانی بات چیت کے لیے سنجیدہ ہیں تو افغانستان کو چاہیے کہ کچھ عملی اقدامات اٹھائے، مثلاً پاکستان کے مطلوبہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، ان کی گرفتاری یا سرحد سے دور منتقلی، اور سرحد پار حملوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ طریقہ کار کی تشکیل۔
پاکستان کو بھی چاہیے کہ سفارتی روابط کے دروازے کھلے رکھے، انسان دوست امداد اور تجارتی سہولیات کو سیکیورٹی تنازعات سے الگ رکھے اور غیر جانب دار ثالثین کی مدد سے مذاکراتی عمل کو واضح اہداف اور وقت کی پابندیوں کے ساتھ آگے بڑھائے۔ دونوں ممالک کے فوجی حکام کو بھی باقاعدگی سے رابطے میں رہنا چاہیے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور سرحدی کشیدگی کم ہو۔
یہ بات واضح ہے کہ یک طرفہ دعووں اور یقین دہانیوں سے سیکیورٹی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ افغانستان کی قیادت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن کی تصدیق پاکستان اور عالمی برادری کر سکے۔ جب تک عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور خطے میں استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
خلوص نیت کے دعووں کے ساتھ عملی اقدامات لازم ہیں، ورنہ امن کا خواب محض سراب رہے گا۔
آوارہ کتوں کا بحران: تحفظِ شہری کی ناگزیر ضرورت
کراچی جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں جہاں پہلے ہی ٹریفک، آلودگی، غربت اور بے ہنگم تعمیرات کے مسائل عوام کا جینا دوبھر کیے ہوئے ہیں، وہیں اب آوارہ کتوں کی بے قابو آبادی ایک نئے، مگر مہلک بحران کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ مسئلہ محض جسمانی خطرات تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی صحت، شہری تحفظ اور بچوں کی بنیادی زندگی کی آزادی تک کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ جس انداز میں ہر گلی، سڑک، پارک اور کچی آبادی ان خطرناک جانوروں کی آماجگاہ بنتی جا رہی ہے، وہ شہری حکمرانی اور بلدیاتی اداروں کی ناقابل معافی غفلت کی عکاسی کرتی ہے۔
کراچی کے اکثر علاقوں میں آوارہ کتے اب محض بھونکنے والے مظلوم جانور نہیں رہے بلکہ وہ بلا کسی اشتعال کے راہ گیروں، موٹر سائیکل سواروں اور بچوں پر حملہ آور ہوتے نظر آتے ہیں۔ خصوصاً رات کے اوقات میں پارکوں میں ورزش کرنے والے افراد کو ان سے مستقل خطرہ لاحق رہتا ہے۔ بعض پارکوں میں اگرچہ سیکیورٹی عملے کی مستعدی کے باعث تاحال کوئی سنگین واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم یہ صورتحال ہر علاقے میں نظر نہیں آتی۔ کئی جگہوں پر پارکوں، گلیوں اور ہسپتالوں میں بچوں پر حملے کی خوفناک خبریں سننے کو ملتی ہیں، جن میں بعض اوقات ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔
اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ سال 2025 میں کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 29 ہزار سے زائد واقعات اور کم از کم 19 اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ ان واقعات کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ شہرمیں ریبیز کی ویکسین کی شدید قلت ہے۔ اگرچہ یہ ویکسین مخصوص وقت میں لگائی جائے تو مریض کو بچایا جا سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے کئی افراد نہ تو بروقت ہسپتال پہنچ پاتے ہیں اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ویکسین کے استعمال کی مکمل معلومات ہوتی ہیں۔ نتیجتاً معصوم جانیں محض لاعلمی کی نذر ہو جاتی ہیں۔
انڈس ہسپتال، جو ایسے کیسز میں سرگرم ہے، روزانہ اوسطاً 150 مریضوں کو کتے کے کاٹنے کے علاج کے لیے وصول کرتا ہے۔ یہ صرف ایک ہسپتال کا ریکارڈ ہے، جب کہ شہر کے دیگر سرکاری اور نجی اسپتالوں میں بھی ایسی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے، خاص طور پر کچی آبادیوں میں جہاں تعلیم کی کمی کے باعث لوگ کتے کے کاٹے کو معمولی چوٹ سمجھ کر گھریلو علاج سے گزارا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگرچہ شہر میں آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کی مہمات چلائی جا رہی ہیں اور حالیہ ایک مہم میں 5 ہزار کتوں کا علاج کیا گیا، لیکن کراچی جیسے وسیع شہر میں یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ آوارہ کتوں کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس کے مقابلے میں انتظامیہ کی کوششیں سست اور غیر مؤثر دکھائی دیتی ہیں۔ یہ کتوں کی افزائش میں بے تحاشا اضافہ صرف ان کی فطری تولید نہیں بلکہ ہماری لاپرواہی کا نتیجہ بھی ہے۔ ہر گلی کوچے میں پھینکا گیا کوڑا، خاص طور پر قصاب خانوں کے باہر گوشت کی باقیات، آوارہ کتوں کے لیے خوراک کا منبع بنتی ہیں، اور ہم بلاارادہ ان کے تحفظ و افزائش میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود ان جانوروں کے لیے بھی اذیت ناک ہے۔ آوارہ کتوں کو نہ صرف بھوک اور بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ان کی اوسط عمر بھی محض تین سے پانچ سال کے درمیان ہوتی ہے، جس میں اکثریت سڑک حادثات یا بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ یوں یہ جانور نہ تو پالتو کہلانے کے لائق رہتے ہیں اور نہ ہی انسانوں کے لیے محفوظ۔
ان تمام پہلوؤں کے ساتھ اگر ہم کراچی کے پسماندہ علاقوں کی حالت زار پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آوارہ کتوں کے ساتھ ساتھ کھلے مین ہولز بھی ان بچوں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں غریب بستیوں کے بچوں کے لیے کھیلنے یا باہر جانے کی آزادی گویا ایک خواب بن چکی ہے۔ یہ بچے زندگی گزارنے کے بجائے ایک مسلسل خوف کے سائے میں سانس لیتے ہیں، جیسے وہ کسی اذیت ناک جنگی علاقے میں پل رہے ہوں۔ ایک طرف آوارہ کتوں کے حملے اور دوسری جانب کھلے گٹروں کی ہلاکت خیز گہرائیاں۔ یہ صورتحال کسی مہذب معاشرے کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔
جانوروں سے محبت ایک فطری اور انسانی جذبہ ہے، مگر اس جذبے کو معاشرتی ذمہ داری کے ساتھ متوازن کرنا ناگزیر ہے۔ ہمیں آوارہ کتوں کی دیکھ بھال اور ان کے تحفظ کا بھی خیال رکھنا چاہیے، مگر اس سے پہلے ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنانی ہو گی۔ ہمیں فوری طور پر ایسے قوانین اور ضابطے نافذ کرنے ہوں گے جو آوارہ کتوں کی آبادی پر مؤثر کنٹرول، ویکسینیشن اور ان کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کو ممکن بنائیں۔ ساتھ ہی عوام میں آگاہی مہمات کے ذریعے یہ شعور اجاگر کرنا ہو گا کہ کس طرح ان جانوروں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو بروقت علاج کی کیا اہمیت ہے۔
آخرکار، کراچی کے ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ ایک محفوظ، صحت مند اور باعزت زندگی گزارے۔ یہ ذمہ داری ریاست، بلدیاتی اداروں، اور شہریوں پر برابر عائد ہوتی ہے کہ وہ مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ بصورت دیگر، یہ شہر صرف کنکریٹ کے جنگل کی حیثیت اختیار کرتا جائے گا، جہاں خوف، غفلت اور عدم توجہی ہی اصل حکمران ہوں گے۔
انسانوں اور جانوروں کے درمیان توازن صرف تب ممکن ہے جب شہری تحفظ اولین ترجیح بن جائے۔







