چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو دوبارہ نشانہ بنا سکتے ہیں؛ ایران کی امریکا کو دوٹوک دھمکی

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے دوبارہ ایرانی نشانے پر آ سکتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر کیا جانے والا حملہ محض ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایران کی ایک اہم عسکری کامیابی تھی، اور ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی دہرائی جا سکتی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران کو خطے میں امریکی اڈوں تک رسائی حاصل ہے اور اگر واشنگٹن نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو ایران کے ردعمل میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 23 جون کو ایران کی جانب سے فائر کیا گیا بیلسٹک میزائل قطر کے العدید ایئر بیس پر گرا تھا، جس سے امریکی کمیونیکیشن نظام کو نقصان پہنچا۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اس واقعے کی تصدیق کی تھی، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں حملے کی تباہی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق حملے کی پیشگی اطلاع ملنے پر بیس پر موجود کچھ عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تازہ وارننگ سے خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بُری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں