مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز اور بین الاقوامی اتحادیوں کے دباؤ کے بعد کیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ایک خفیہ پریزنٹیشن پیش کی، جس میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے کا منصوبہ پیش کیا گیا۔
اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام بھی شامل تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے اور اس کے میزائل پروگرام کو ختم کرنے سے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ پر گہرا اثر ڈالا اور انہوں نے ابتدا میں اس منصوبے پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے چار بڑے مقاصد تھے: ایرانی قیادت کا خاتمہ، میزائل نظام کی تباہی، عوام میں بغاوت کو ہوا دینا اور حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج)۔
تاہم بعد ازاں امریکی انٹیلی جنس اداروں نے منصوبے کے کچھ پہلوؤں پر تحفظات ظاہر کیے۔ ان کے مطابق ابتدائی دو اہداف عملی تھے، مگر عوامی بغاوت اور حکومت کی تبدیلی کے امکانات حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔
وائٹ ہاؤس کے اندر اس معاملے پر شدید اختلافات بھی سامنے آئے، جہاں کچھ حکام نے منصوبے کی مخالفت کی جبکہ دیگر نے اسے امریکی مفادات کے لیے ضروری قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ پیچیدہ سفارتی اور عسکری عوامل کے نتیجے میں کیا گیا، جس میں اتحادی دباؤ اور اندرونی مباحثے مرکزی کردار ادا کر رہے تھے







