مستحقین کے اربوں کےمالیتی پلاٹ منسوخ، ایم ڈی اے نے شہریوں کے حقوق پامال کر دیئے

ملتان(سٹاف رپورٹر) ایم ڈی اے نے اپنی ہی گورننگ باڈی کا سابق فیصلہ منسوخ کرکے مستحقین کو اربوں روپے کی اراضی سے محروم کر دیا اور متاثرین کو الاٹ شدہ پلاٹوں کی منسوخی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ تفصیل کے مطابق آغا سرور ودیگر فیملی ممبران نے 70 کی دہائی میں ملتان امپرومنٹ ٹرسٹ کی 9 نمبر چونگی پر واقع آفیسرز کالونی میں 4 کنال کا پلاٹ خریدا تھا جس پر اور دیگر ملحقہ پلاٹوں پر بھٹو دور ہی میں چنگڑ برادری نے قبضہ کر لیا اور امپرومنٹ ٹرسٹ اس قبضے کو ختم کرانے میں ناکام رہا حتیٰ کہ اس وقت کے سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے قبضہ واگزار کرانے کا حکم دیا تو انتظامیہ کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس پر کارروائی رک گئی کیونکہ بعض اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ 1977میں ایم ڈی اے کے قیام کے بعد مذکورہ کالونی کو ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ‘ایم ڈی اے افسران و عملہ کی ملی بھگت سے آغا سرور کے قیمتی پلاٹ سمیت اردگرد کے پلاٹوں سمیت زیر قبضہ پلاٹوں پر قبضہ مافیا نے پختہ تعمیرات شروع کر دیں ‘مذکورہ کالونی کی کمرشلائزیشن، نقشہ منظوری اور دیگر بھال کی ذمہ داری ایم ڈی اے کے پاس آ چکی تھی اسی طرح الاٹیوں کے پلاٹ کے قبضے ختم کروانا بھی ایم ڈی اے کی ذمہ داری میں شامل تھا مگر ایم ڈی اے کا کوئی افسر یہ پلاٹ واگزار نہ کرا سکا ‘40سال تک پلاٹ کے حصول کے لئے دھکے کھانے والے متاثرین کو سابق ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے آغا علی عباس کی تعیناتی کے دوران گورننگ باڈی نے فیصلہ کرکے مذکورہ پلاٹ کے بدلے نیو شاہ شمس کالونی اور فاطمہ جناح کالونی میں نسبتا ًکم قیمت متبادل پلاٹ الاٹ کر دے جن میں سے صرف ایک پانچ مرلہ پلاٹ کا قبضہ دیا گیا اور آغا علی عباس کے ٹرانسفر ہوتے ہی ایم ڈی اے نے گورننگ باڈی کے مطابق دیئے جانے والے پلاٹوں پر پھر اعتراض لگا کر محض مال پانی کے لئے الاٹیوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا کبھی یہ معاملہ عدالت پہنچا دیا جاتا اور کبھی گورننگ باڈی میں دوبارہ رکھ دیا جاتا۔ سابق ڈائریکٹر جنرل و سپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ رانا سلیم نے الاٹ شدہ مذکورہ پلاٹوں کے خلاف ریفرنس تیار کرکے وزیراعلیٰ سیکرٹری کو بھجوا دیا تھا تو اس معاملہ کو قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ میں رکھا گیا جہاں سے بھی سابق ڈی جی رانا سلیم کو ناکامی ہوئی اور انہیں آئندہ اس طرح کے ریفرنس بھجوانے سے باز رہنے کی بھی تنبیہ کی گئی مگر اس کے باوجود حق داروں کو پلاٹ نہ مل سکے، جس پر الاٹیان نے مجبوراً ہائیکورٹ کا رخ کیا اور عدالت نے سپیکنگ آرڈر جاری کرکے فیصلہ مانگا جس پر موجودہ ڈائریکٹر جنرل راشد ارشاد نے ایک ماہ کے دوران دو گورننگ باڈیز محض مذکورہ پلاٹوں کے حوالے سے کی اور دوسری گورننگ باڈی میں کمشنر ملتان و سپیشل سیکرٹری پی اینڈ ڈی کو غلط بریف کرکے تمام متبادل تمام پلاٹس منسوخ کرکے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ حقداروں کو ان کے حق سے محروم کرنے کے لئے اپنی ہی گورننگ باڈی کا فیصلہ منسوخ کرنے کا اقدام بھی ایم ڈی اے کی ہسٹری میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر ایم ڈی اے کے افسران اور متاثرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں