مسابقتی کمیشن پاکستان نے حال ہی میں ایک پریس بیان جاری کیا جس میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے اپنی کارکردگی کے بارے میں کی گئی تعریف کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا۔ یہ بیان بظاہر اس لیے دیا گیا کہ ذرائع ابلاغ نے اس رپورٹ کو مناسب توجہ نہیں دی تھی اور ادارہ اپنی ’’کامیابیوں‘‘ کی تشہیر چاہتا تھا۔ ایک باقاعدہ ضابطہ جاتی ادارے کی جانب سے ایسی خود ستائشی شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے، مگر اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مسابقتی کمیشن کی طویل المدتی ساکھ کمزور رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جس کی نشاندہی بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے بھی کی: کمیشن اپنے فیصلوں پر موثر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے، اور یہ نااہلی نہ صرف بازاروں کی شفافیت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہے۔پریس بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن نے مقدمات کے بیک لاگ میں ۷۰ فیصد کمی کی ہے اور ۵۶۷ مقدمات میں سے ۴۲۸ کے فیصلے ہو چکے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر صرف فیصلے سنانا کافی نہیں، اصل اہمیت ان فیصلوں پر عمل درآمد کی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ بھی کمیشن کی تعریف کے ساتھ ساتھ یہ شرط لگا کر اسے محدود کر دیتا ہے کہ کوئی بھی نیا نظام تب ہی مؤثر ہوگا جب اس کے ساتھ سخت، مربوط اور مستقل مزاج نفاذ بھی موجود ہو۔اصل مسئلہ وہی ہے جس کی طرف فنڈ کی رپورٹ نے نشاندہی کی کہ محض فیصلے دینا کافی نہیں، ان فیصلوں کا اثر نیچے تک جانا چاہیے۔ یعنی جہاں مارکیٹ میں گٹھ جوڑ، ناجائز منافع خوری یا شعبہ جاتی رکاوٹیں موجود ہیں، وہاں کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور آڈیٹر جنرل جیسے اداروں کے ساتھ مضبوط ربط لازمی ہے۔ بدقسمتی سے پریس ریلیز میں ان اہم نکات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔رپورٹ نے یہ اہم مشورہ بھی دیا کہ مسابقتی کمیشن اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن جیسے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی شفاف، سخت اور میرٹ پر مبنی ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں عرصہ دراز سے ضابطہ جاتی ادارے سیاسی اثر و رسوخ کا شکار رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی ساکھ اور عمل داری بری طرح متاثر ہوئی۔ جب تک اعلیٰ عہدوں پر سفارش کے بجائے قابلیت معیار نہ بنے، تب تک اصلاحات کے دعوے محض الفاظ ہی رہیں گے۔پریس بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں میں کمیشن نے ۱۔۰۱ ارب روپے کے جرمانے وصول کیے، جو پچھلے ۱۵ برسوں میں صرف ۲۰ کروڑ روپے تھے۔ بظاہر یہ بڑی پیش رفت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ۹ ارب روپے کے جرمانے جو مختلف کارٹلوں پر عائد کیے گئے تھے، کیا وہ وصول ہوئے؟ محض کاغذوں میں جرمانہ لگا دینا کوئی کامیابی نہیں، ریاستی رٹ تب قائم ہوتی ہے جب ناجائز منافع خوروں اور کارٹلوں کو واقعی مالی نقصان اٹھانا پڑے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کمیشن نے گمراہ کن تشہیر کے خلاف کارروائی کی ہے اور جائیداد، گاڑیوں، دودھ اور تعلیم کے شعبوں میں دھوکہ دہی کے مرتکب اداروں کو جرمانے کیے ہیں۔ یہ یقیناً خوش آئند ہے، مگر سوال پھر وہی ہے—کیا یہ جرمانے بھی سابقہ جرمانوں کی طرح صرف فائلوں کی حد تک محدود رہیں گے، یا واقعی وصول بھی ہوں گے؟ اگر کمیشن ’’اعداد و شمار پر مبنی‘‘ ادارہ بن چکا ہے، جیسا کہ بیان میں دعویٰ کیا گیا، تو پھر شفافیت کے تقاضے یہ بھی ہیں کہ وصول شدہ اور غیر وصول شدہ جرمانوں کی تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی رپورٹ کا ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ پاکستان میں مارکیٹ کا ماحول غیر مسابقتی ہے۔ بڑے صنعتی گروہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب تک حکومت معاشی فیصلہ سازی میں ایسے طاقتور گروہوں کے اثر کو کم نہیں کرتی، مسابقتی کمیشن کی تمام کوششیں ادھوری رہیں گی۔ مارکیٹ میں شفاف مقابلے کی فضا قائم نہ ہو تو نہ سرمایہ کاری بڑھتی ہے، نہ قیمتوں میں استحکام آتا ہے اور نہ ہی صارفین کو معیاری مصنوعات ملتی ہیں۔پریس بیان میں کمیشن نے خود کو ’’روایتی ریگولیٹر‘‘ سے ’’اعداد و شمار پر مبنی نگہبان‘‘ قرار دیا، لیکن اس خود اعتمادی میں وہ بنیادی مسئلے کو بھول بیٹھا: ادارے کی کارکردگی اس کے قانونی اختیار، سیاسی آزادی اور مالی خودمختاری سے مشروط ہوتی ہے۔ جب تک کمیشن کو مکمل خودمختاری نہیں ملتی، جب تک اس کے فیصلوں پر بھرپور اور بے خوف عمل درآمد نہیں ہوتا اور جب تک اس کی افسر شاہی کو سیاسی مفادات سے آزاد نہیں کیا جاتا، اس کی اصلاحات محض نمائشی رہیں گی۔اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کمیشن کی مکمل ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنائے، میرٹ پر تعیناتیوں کا نظام رائج کرے، بڑے کارٹلوں کے خلاف قانونی کاروائیاں تیز کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جرمانوں کی وصولی یقینی ہو۔ اسی طرح احتسابی اداروں کے ساتھ مربوط مکینزم قائم کرنا ناگزیر ہے تاکہ مارکیٹ میں گٹھ جوڑ اور ناجائز منافع خوری کی کمر توڑی جا سکے۔مسابقتی کمیشن کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ ادارہ محض رپورٹ سازی کا حصہ نہ رہے بلکہ حقیقتاً بازاروں میں شفافیت، مقابلے اور صارفین کے حقوق کا ضامن بنے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی نشاندہی حکومت کے لیے ایک تنبیہ ہے—اب اصلاحات کا وقت ہے، اور اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو مارکیٹ کی بے ضابطگیاں، کارٹلوں کا غلبہ اور بدعنوانی کا تسلسل نہ صرف معیشت کی جڑیں کھوکھلی کرے گا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچائے گا۔







