
ملتان(سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ جو خود عالمی رینکنگ میں کہیں دکھائی نہیں دیتی، ایک ایسے سنگین تنازعے کی زد میں آ گئی ہے جہاں علمی ترقی کو جرم اور عالمی کامیابی کو سزا بنا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی ٹینیور ٹریک اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا ہنی کو دنیا کی نمبر 2 جبکہ برطانیہ و یورپ کی پہلے نمبر کی یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ میں داخلہ لینا انتہائی مہنگا پڑ گیا۔ ڈاکٹر شہلا ہنی کا یہ تعلیمی کارنامہ یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے قابلِ فخر ہونے کے بجائے انا کا مسئلہ بن گیا۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے واضح ویژن کے مطابق اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور بالخصوص خواتین کو بین الاقوامی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں مگر اوکاڑہ یونیورسٹی میں اس وژن کے بالکل برعکس اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔ الزامات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر شہلا ہنی کو نہ صرف پروموشن سے محروم رکھا بلکہ گزشتہ سال ٹینیورڈ فیکلٹی کو دی جانے والی 13ویں تنخواہ (13th Salary) بھی ادا نہیں کی۔ یہ اقدام اس وقت مزید متنازع ہو جاتا ہے جب ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے واضح قوانین کے مطابق ٹینیورڈ پوزیشن پر فائز اساتذہ کی پوسٹ ڈاکٹریٹ کے دوران تنخواہ روکی نہیں جا سکتی۔ ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ وائس چانسلر ڈاکٹر رانا سجاد مبین کے خلاف شکایات درج کروانے اور دنیا کی دوسری نمبر کی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی ’’جرأت‘‘کرنے پر ڈاکٹر شہلا ہنی کے خلاف مبینہ طور پر انتقامی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ خواتین اساتذہ میں شدید خوف و بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عالمی معیار کی یونیورسٹیاں پاکستانی خواتین اساتذہ کو خوش آمدید کہہ رہی ہیں تو کیا ملکی جامعات کا کردار انہیں سزا دینا رہ گیا ہے؟ کیا ایک غیر رینکڈ یونیورسٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والی خاتون استاد کا راستہ روکے؟ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ معاملہ پنجاب میں اعلیٰ تعلیم، خواتین کی حوصلہ افزائی اور حکومتی دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جائے گا۔ اب نگاہیں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب اٹھ رہی ہیں کہ آیا وہ اس مبینہ ناانصافی کا نوٹس لیں گی یا نہیں۔







