بہاولپور (کرائم سیل) کوٹ ادو میں امان اللہ عرف ببلی کو قاتلانہ حملے میں زخمی کرنے کے بعد اقراری بولا گینگ نے پورے علاقے میں دہشت پھیلا دی۔ شہری خوف کے مارے سسک رہے ہیں، پولیس اس گینگ کو گرفتار کرنے میں ناکام،اعانت کے شبہ میں گرفتار دونوں ملزمان عدالتوں سے ضمانتوں پر رہا۔تفصیلات کے مطابق عید سے دو روز قبل زخمی ہونے والے امان اللہ عرف ببلی مشہوری کی نشتر ملتان میں دوسری ٹانگ بھی فائر لگنے سے شدید خراب ہو چکی ہے جسے ڈاکٹروں نے کاٹنے کی ہدایت کر دی ہے۔ حملے کے بعد مخبری اور اعانت کے جرم میں گرفتار دونوں ملزمان عدالت سے ضمانت پر پولیس کی سہولت کاری سے رہا ہو چکے ہیں۔ ان کے خوف سے متاثرین اور شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔شہریوں نے اقراری بولا گینگ کی جانب سے بھتہ خوری کی متعدد شکایات بھی کی ہیںجبکہ دہشت کی علامت سمجھے جانے والے اقراری بولا کو کوٹ ادو کی پولیس سرکل آفیسر اور ایس ایچ او گرفتار کرنے میں بالکل ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ ملزمان لیہ کے علاقے پہاڑپور اور احسان پور میں 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ون ٹو فائیوموٹر سائیکلوں پر مسلح ہو کر آتے جاتے ہیں اور اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیںلیکن انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ادھرڈی ایس پی لیہ نے اس گینگ کو گرفتار کرنے کے لیے تمام حکمت عملی ترتیب دے دی ہے اور کہا ہے کہ وہ بہت جلد اقراری بولا اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیں گےجبکہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنا ٹھکانہ بھی پہاڑپور کے علاقے میں قائم کر رکھا ہے۔روزنامہ قوم مسلسل تمام حالات سے دفتر ایڈیشنل آئی جی پنجاب، آر پی او ڈیرہ غازی خان اور کوٹ ادو پولیس کو آگاہ کر رہا ہےمگر ابھی تک کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کیا یہی وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف کا محفوظ پنجاب ہے؟ دسمبر 2025 میں سی سی ڈی کے اہلکاروں پر یہی گینگ فائرنگ کر چکا ہے، ملازمین زخمی ہوئے اور متعدد قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری کے مقدمات میں ملوث ہے۔ کئی سہولت کار بھی انہی علاقوں میں مخبری کے لیے کام کر رہے ہیں، مگر پولیس ان ملزمان یا سہولت کاروں کو گرفتار کرنے میں خوف محسوس کر رہی ہے۔سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ کوئی بدمعاش پنجاب میں نہیں رہے گا لیکن شہری اور متاثرین کا کہنا ہے کہ آئیں کوٹ ادو میں دیکھیں کہ کس طرح اقراری بولا اور اس کے ساتھی سی سی ڈی کے ملازمین پر فائرنگ کر کے اب تک آزاد ہیں۔ اگر پولیس اپنے ہی ملازموں پر فائرنگ کرنے والے ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی تو عام شہریوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کوٹ ادو پولیس اس بارے میں کیا مؤثر حکمت عملی ترتیب دیتی ہے۔







