جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس بل اب ایکٹ بن چکا ہے، ہم کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے۔ اگر بات نہ مانی گئی تو ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس بل پر صدر مملکت کی جانب سے اعتراض کے باوجود یہ ایکٹ بن چکا ہے۔ اگر دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صدر 10 دن میں دستخط نہ کریں تو بل قانون بن جاتا ہے، پھر گزٹ نوٹیفکیشن میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ مدارس رجسٹریشن کے معاملے پر حکومت خود رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عالمی اداروں جیسے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے، جو پاکستان کی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ دینی مدارس نے ہمیشہ آئین و قانون کی پاسداری کی ہے اور جدید علوم کو اپنانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیمات مدارس نے متفقہ طور پر مدارس بل کو ایکٹ تسلیم کرلیا ہے اور کسی ترمیم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ دینی مدارس کے نصاب کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور بین الاقوامی حمایت حاصل کرکے مدارس کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ مدارس کی تقسیم کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور حالات خراب کرنے سے گریز کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو فیصلہ ایوان کے بجائے میدان میں ہوگا۔






