آج کی تاریخ

محکمہ صحت 2 ارب سکینڈل: منور قریشی کے گرد گھیرا تنگ، ہسپتالوں سے ٹھیکوں کا ریکارڈ طلب

ملتان (وقائع نگار)سابق چیئرمین یونین کونسل نمبر 40 کے چیئرمین منور قریشی کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ۔ انکوائری آفیسر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز بہاولپور نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی ،نشتر ہسپتال ٹو ،فتح محمد بزدار انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ہسپتال ڈیرہ غازی خان ،سی ای او ہیلتھ ملتان ،ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ سے منور قریشی کی کمپنیوں کے ٹھیکوں کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ۔منور قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے چھ مختلف کمپنیوں کے ذریعے نشتر ہسپتال ، فتح محمد بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز ملتان ،ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ سے چار سال کے دوران سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے دو ارب کے ٹھیکےلئے۔ منور قریشی کی انکوائری کے سلسلے میں انکوائری آفیسر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز بہاولپور کی جانب سے طبی نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ نوٹس میں نشتر ہسپتال ملتان ملتان فتح محمد بزدار انسٹیٹیوٹ اف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان سی ای او ہیلتھ مظفرگڑھ سی ای او ہیتھ ڈی جی خان اور سی ای او ہیلتھ ملتان کو مطلع کیا گیا ہے کہ انہیں پنجاب ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے منور قریشی کی میڈیکل بزنس اور سیاست کی آڑ میں مبینہ غیر قانونی اقدامات بشمول کرپشن سیاسی اثرورسوخ کا استعمال اور اس سلسلے میں سرکاری افسران کی تعیناتیوں کے معاملے کی انکوائری کر کے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طلبی نوٹس کے مطابق منور قریشی متعدد میڈیکل کمپنیوں جن میں منور فارما، الحدید انٹرپرائزز ،امروز فارما گلوبل فارما ایسٹرن میڈیکل اور پاک پبلک سکیورٹی کمپنی شامل ہیں کا مالک ہے وہ میڈیکل بزنس اور سیاسی اثر رسوخ کی آڑ میں بھاری کمائی کر رہا ہے۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران منور قریشی نے ان کمپنیوں اور ٹھیکوں کے ذریعے دو ارب روپے کمائے۔ منور قریشی نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے و ایم این اے زین قریشی کے سیاسی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے درجنوں ٹھیکے حاصل کیے ۔اسی طرح نشتر ہسپتال اور نشتر ٹو کے سکیورٹی کنٹریکٹس منور قریشی کے بھائی سلیم قریشی کی فرم پاک پبلک سکیورٹی کمپنی ہے کو تین سالوں سے ٹھیکے دیئے جا رہے ہیں ۔سکیورٹی کنٹریکٹ کی مدت عام طور پر ایک سال ہوتی ہے مگر منور قریشی سکیورٹی کنٹریکٹ کی مدت میں تجدید کرواتے رہے ۔معلوم ہے کہ منور قریشی کے کام کے لیے شاہ محمود قریشی سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ناراض بھی ہو گئے تھے اور انہوں نے عثمان بزدار کو منور قریشی کے کام کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ محکمہ ہیلتھ ذرائع کا کہنا ہے کہ منور قریشی متعدد فارماسوٹیکل کمپنیوں کے لیے سرکاری اداروں میں بطور ایجنٹ کام کرتا ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق سپلائر کا اپنا ویئر ہاؤس ہونا چاہیے لیکن منور قریشی کا نہ تو ویئر ہاؤس تھا اور نہ ہی ان جگہوں پر کمپنی کا آفس تھا جن کے ایڈریس سرکاری دستاویزات میں دیے جاتے تھے۔ منور قریشی شاہ عالمی مارکیٹ اور پشاور سے سب سٹینڈرڈ ادویات تیار کرواتے اور متعلقہ سٹور کیپرز کی ملی بھگت سے کم مقدار میں ادویات کی سپلائی کی جاتی تھی۔ ان بے ضابطگیوں کی وجہ سے ملتان کے سابق سی ای او ہیلتھ فیصل قیصرانی اور مظفرگڑھ کے سی ای او معطل ہو چکے ہیں ۔انکوائری آفیسر نے متعلقہ ہسپتالوں اور ہیلتھ اتھارٹیز کے سربراہوں سے ان تمام کمپنیوں کے مالی لین دین اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں جن سے منور قریشی لین دین کرتے تھے اس کے علاوہ ان سرکاری ملازمین کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے جنہوں نے منور قریشی کو مبینہ طور پر غیر قانونی اقدامات میں سہولت کاری فراہم کی یا ان سے مالی فوائد حاصل کیے اس کے علاوہ ان ملازمین کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہے جن کو منور قریشی نے اپنی من پسند سیٹوں پر تعینات کروایا تھا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز بہاولپور نے انکوائری مکمل کر لی ہے اور آئندہ چند روز تک انکوائری رپورٹ سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پنجاب کو بھجوا دی جائے گی اور متعدد محکمہ ہیلتھ کے ملازمین کے خلاف کاروائیاں کی جائیں گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں