پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران

تازہ ترین

محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا

ملتان (وقائع نگار) محکمہ صحت میں اربوں کی کرپشن ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں 10 ارب 48 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں بے نقاب ،محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) لاہور میں 10 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں اور مبینہ طور پر کرپشن کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ رقم عوامی صحت کے بجٹ کو برباد کرنے کا واضح ثبوت ہے، جہاں ادویات کی جعلی خریداری، فنڈز کی غلط استعمال اور تنخواہوں میں ہیرا پھیری شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کے تحت کام کرنے والے مختلف ہسپتالوں، بنیادی صحت مراکز اور ڈسپنسریوں میں پیپرا قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور دیگر اعلیٰ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے بغیر کسی باقاعدہ ڈیمانڈ کے لاکھوں کی ادویات اور طبی سامان کی خریداری ظاہر کی، جن کی سپلائی کبھی نہیں ہوئی۔ ایک اعلیٰ حکومتی ذریعہ نے بتایا کہ “ان بے ضابطگیوں کا انکشاف انکوائری کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، جس میں 89 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکا۔یہ معاملہ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے زیر بحث ہے، جہاں رپورٹ میں 6 کروڑ 62 لاکھ روپے کی فوری ریکوری اور پنجاب انسپکشن آف ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس (پیڈا) ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کرپشن کیس عوام کی صحت کو براہ راست متاثر کر رہا ہے، کیونکہ بجٹ کا بڑا حصہ جعلی بل اور ٹھیکوں میں ضائع ہو رہا ہے۔صحت کے شعبے میں حالیہ دنوں میں راولپنڈی ڈی ایچ اے میں 16 کروڑ روپے کی کرپشن کا انکشاف ہو چکا ہے، جہاں جعلی سپلائیز اور بغیر ڈیمانڈ کی خریداریوں کا پتہ چلا۔ اسی طرح، ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں 165 ارب روپے کی بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں، جو پورے ملک میں مالی بدعنوانی کی لہر کو ظاہر کرتی ہیں۔حکومت کی جانب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بلند ہو گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں