محکمہ صحت ملتان میں سرکار کو کروڑوں کا ٹیکہ، ریکارڈ غائب، اینٹی کرپشن انکوائری ٹھپ

ملتان (کرائم ریسرچ سیل)اینٹی کرپشن ملتان کی کمزور گرفت بار بار یاد دھانی کے باوجود محکمہ صحت ملتان سے انکوائری میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا ریکارڈ ہی محکمہ اینٹی کرپشن حاصل نہ کر سکا۔اس کرپشن میں شامل ملزمان ڈ اکٹر فیصل رضا قیصرانی سابقہ سی ای او محکمہ صحت ملتان ، حاجی طاہر حسین کیشیئر ، اشتیاق بھٹی سٹور کیپر، حافظ امین اکا ئونٹنٹ، حبیب آفتاب کمپیوٹر آپریٹر وغیرہ نے بوگس بل پاس کروا کر محکمہ ہیلتھ کو بھاری نقصان پہنچایا۔ بوگس میڈیسن پرچیزنگ کی اور سٹیشنری ، ٹی اے ڈی اے بلز و دیگر میں محکمہ کو بھاری مالیت کا نقصان پہنچایا اینٹی کرپشن ذرائع نے بتایا کہ ملتان کے سابق چیئر مین پی ٹی آئی ملتان کے بھائی سلیم قریشی نے اس معاملے میں بطور فرنٹ مین کردار ادا کیا ہے۔ڈاکٹر فیصل رضا قیصرانی نے محکمہ صحت کے بجٹ برانچ سے 16 کروڑ روپے نکال کر غیر قانونی خریداری کی۔ اس خریداری کا NOC کسی اتھارٹی سے نہ لیا اور نہ ہی کسی اتھارٹی کو مطلع کیا۔ اس کے علاوہ ان پر بوگس بھرتیوں کا بھی الزام ہے۔ڈاکٹر فیصل رضا قیصرانی نے CEO ہیلتھ نے ملتان تعیناتی کے دوران بنیادی مرکز صحت میں رہائش رکھی اور گورنمنٹ ہائوس رینٹ بھی غیر قانونی طور سے وصول کرتے رہے ۔ الزام کے مطابق محکمہ صحت ملتان میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ اشتیاق بھٹی نامی سابقہ سٹور کیپر نے DHA ملتان میں گھر بنوا رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملازمین نے کروڑوں کی سرکاری ادویات چوری کرکے پرائیوٹ فارمیسیوں میں شیئر لے رکھے ہیں یہ سرکاری ادویات پرائیوٹ فارمیسیوں میں چلائی جاتی ہیں۔ محکمہ اینٹی کرپشن ملتان نے اس سے قبل اس قسم کی دو درخواستیں دوران انکوائری ہی فارغ کردی تھیں اور اس درخواست پر بھی اب تک محکمہ صحت سے مذکورہ ریکارڈ حاصل نہیں کیا جارہا نہ ہی پرچیزنگ کی فزیکل ویریفکیشن کروائی گئی ہے اور نہ ہی محکمہ اینٹی کرپشن محکمہ ہیلتھ کے اکائونٹس و دیگر شعبوں کا سرکاری ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ اس بابت محکمہ اینٹی کرپشن کے ایک ذریعہ نے بتایا کہ درخواست د ہندگان درخواست دینے کے بعد متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ “ڈیل” کر لیتے ہیں اور اپنی درخواست واپس لے لیتے ہیں ۔ جس سے تحقیقات میں رکاوٹیں آتی ہیں اور ملزمان کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مدعی اور ملزمان کی اس پلی بارگیننگ میں مدعی چاہے درخواست واپس بھی اٹھا لے مگر محکمہ اینٹی کرپشن کرائم کنڈکٹ ہونے کی صورت میں اپنے طور سے بھی ملزمان پر مقدمہ درج کروا سکتا ہے ۔یاد رہے یہ انکوائری محکمہ ہیلتھ پنجاب بھی کررہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں