تیز گام حادثہ: ملتان میں چیکنگ لاپروائی، شعبہ مکینیکل نے انجینئرنگ پر ملبہ ڈال دیا، نئے انکشافات-تیز گام حادثہ: ملتان میں چیکنگ لاپروائی، شعبہ مکینیکل نے انجینئرنگ پر ملبہ ڈال دیا، نئے انکشافات-محکمہ صحت لودھراں میں کروڑ پتی کمپیوٹر آپریٹر، طاہر شاہ کا راج، منتھلیاں مقرر، گھر "مال خانہ"-محکمہ صحت لودھراں میں کروڑ پتی کمپیوٹر آپریٹر، طاہر شاہ کا راج، منتھلیاں مقرر، گھر "مال خانہ"-ایمرسن یونیورسٹی میں سپلی کا کاروبار، ذہین طلبہ ایک مضمون میں فیل، پرچہ فیس 10 ہزار-ایمرسن یونیورسٹی میں سپلی کا کاروبار، ذہین طلبہ ایک مضمون میں فیل، پرچہ فیس 10 ہزار-ویمن یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹر پراچہ کی باقیات برقرار، دیبا شہوار کے وار، عملہ خوار، مریم نواز سے امید-ویمن یونیورسٹی ملتان: ڈاکٹر پراچہ کی باقیات برقرار، دیبا شہوار کے وار، عملہ خوار، مریم نواز سے امید-ویمن یونیورسٹی ملتان: عارضی رجسٹرار کی من مانی، امتحان شیڈول تبدیل، طالبات پریشان-ویمن یونیورسٹی ملتان: عارضی رجسٹرار کی من مانی، امتحان شیڈول تبدیل، طالبات پریشان

تازہ ترین

محکمہ صحت لودھراں میں کروڑ پتی کمپیوٹر آپریٹر، طاہر شاہ کا راج، منتھلیاں مقرر، گھر “مال خانہ”

ملتان(سپیشل رپورٹر) محکمہ صحت لودھراں میں تعینات کمپیوٹر آپریٹر نہ صرف محکمے کو اپنی ذاتی جاگیر بنا چکا ہے بلکہ اس نے کرپشن، بلیک میلنگ اور اثرورسوخ کا ایسا جال بچھا رکھا ہے کہ افسران سے لے کر فیلڈ سٹاف تک سب اس کے خوف سے کانپتے ہیں۔ طاہر شاہ نامی یہ کمپیوٹر آپریٹر محکمہ صحت لودھراں میں بی ایس 12 سے بی ایس 15 تک کی غیر قانونی پروموشن حاصل کر چکا ہے اور گزشتہ 8 سال سے سی ای او آفس میں جنرل ڈیوٹی پر فائز ہے۔طاہر شاہ پر الزام ہے کہ اس نےویکسینیٹرز اور فیلڈ سٹاف کو ملنے والی سرکاری موٹر سائیکلیں اور سم اپنے گھر اور رشتہ داروں میں بانٹ دیں۔ سرکاری واٹر ڈسپنسر، فریج، ILR، AC/DC انورٹر، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، پرنٹر، ٹیبل اور کرسیاں سب اس نے اپنے گھر پہنچا دیں۔ دفتر کی تعمیر اور مرمت کے نام پر سرکاری خزانے سے خریدی گئی ماربل ٹائلیں اس نے اپنے گھر کے فرش پر لگوائیں۔ سی ای او آفس کے درخت بھی اس نے غیر قانونی طور پر بیچ ڈالے۔ ویکسینیٹرز کے سرکاری موبائل فون بھی اس نے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے جبکہ پرانے واپس لیے گئے موبائل مارکیٹ میں بیچ دیئے۔ سٹور میں پڑا پرانا کنڈم سامان بغیر بولی کے بیچ کر کھا گیا،طاہر شاہ نےبغیر کسی اتھارٹی کے میڈیکل سٹورز اور پرائیویٹ ہسپتالوں کی انسپکشن کرنا شروع کر رکھی ہے۔ جو اس کی’’منتھلی‘‘ ادا نہیں کرتااس کا سٹور سیل کروا دیا جاتا ہے، وینڈرز اور سٹور کیپر کی ملی بھگت سے وہ بلوں میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مہنگی میڈیسن دکھاتا ہے جبکہ حقیقت میں تھرڈ کلاس میڈیسن منگواتا ہے۔ سرکاری میڈیسن بھی اسی ملی بھگت سے بیچ دی جاتی ہے، ذرائع کے مطابق طاہر شاہ دفتر میں خفیہ کیمرے اور مائک لگا کر افسران اور ملازمین کی کال ریکارڈ کرتا ہے اور پھر انہیں بلیک میل کرتا ہے۔افسران کے فیک ڈیجیٹل سائن بنا کر ملازمین سے رشوت لیتا ہے،اس کے کزن اور رشتہ دارپولیس اور سپیشل برانچ میں تعینات ہیں جن کے ذریعے وہ ملازمین کو کال کروا کر ڈراتا ہے، دھمکیاں دیتا ہے اور بلیک میل کرتا ہے۔ٹرانسفر پوسٹنگ کے نام پر رشوت لینا، 10000 روپے لے کر ACR پر فیک سائن کرنا، دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کی دھمکیاں دے کر ہراساں کرنا اس کے معمول کے کام ہیں۔طاہر شاہ کاڈی ڈی بجٹ اینڈ فنانس سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ وہ محکمہ صحت کے تمام ہسپتالوں اور دفاتر کا بجٹ کمیشن پر جاری کرواتا ہے۔ جو کمیشن نہیں دیتا، اس کا بجٹ جاری نہیں ہونے دیتا،اکاؤنٹ آفس میں بھی اس کی رسائی اتنی زیادہ ہے کہ جو اس کے ذریعے کمیشن نہیں دیتا،اس کے بل پاس ہی نہیں ہوتے۔طاہر شاہ پر الزام ہے کہ اس نے3 سال کے دوران سی ای او آفس کی تین بار رینویشن کروائی، ہر بار لاکھوں روپے کا بل پاس کروایا گیا۔وینڈرز سے پیسے لے کر ٹینڈر پاس کروانا، سرکاری انٹرنیٹ کی مد میں لاکھوں روپے کھانا اس کے معمول ہیں۔کرونا کے دوران فیک انٹریاں کر کے لاکھوں روپے بنائے۔ملک سے باہر جانے کے لیے پولیو ویکسین کی فیک انٹریاںکر کے بھی لاکھوں روپے کمائے۔ ایک اپنے ہی آپریٹر کو بلیک میل کر کے 2 لاکھ روپے رشوت لی،2023-2024 میںکنٹریکٹ سے ریگولر ہونے والے تقریباً تمام ملازمین سے اس نے فی کس 10000 روپے رشوت لی۔درجہ چہارم کے ملازمین کو ٹرانسفر اور PEEDA کی دھمکیاں دے کر اپنے گھر کی سبزیاں منگواتا ہے، گھر بنوانے میں مزدوری کرواتا ہے۔طاہر شاہ کے پاس ایک خستہ حالت موٹر سائیکل تھی۔ گزشتہ 3-4 سالوں میں اس نے 2 نئے موٹر سائیکل، ایک نئی کار، 2 عدد پلاٹ، عالیشان نیا مکان، لاکھوں کا بینک بیلنس بنا لیا۔ سوال یہ ہے کہ بی ایس 12 کے کمپیوٹر آپریٹر کی اتنی ترقی 3-4 سالوں میں کیسے ممکن ہوئی؟ذرائع کے مطابق طاہر شاہ کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہے۔ قانون کے مطابق جس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہو وہ سرکاری نوکری کا اہل نہیں۔ لیکن طاہر شاہ نہ صرف نوکری پر برقرار ہے بلکہ محکمے کو اپنی جاگیر بنا رکھا ہے۔طاہر شاہ کوکیپٹن ریٹائرڈ ڈاکٹر عثمان علی خان جو ڈپٹی پروگرام مینیجر اور ڈائریکٹر سپیشلسٹ ہیلتھ لاہور سیکرٹریٹ ہیں اور سابق ڈی ایچ او پی ایس بھی رہ چکے ہیں، کی مبینہ طور پرمکمل حمایت حاصل ہے۔سیاسی خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے آج تک اس کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہو سکی۔طاہر شاہ محکمہ صحت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے۔ اس کی پہنچ لاہور سیکرٹریٹ تک جا چکی ہے۔ جو اس کی جی حضوری نہیں کرتا، اسےدور دراز علاقے میں ٹرانسفر کی دھمکیاںدی جاتی ہیں۔ ملازمین کے مطابق طاہر شاہ دفتر میںحاضری رجسٹر میں نام تک نہیں لکھتا، ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنا اس کا معمول ہےاور جو بھی لیٹ آتا ہے اس سےرشوت کے طور پر پیزے برگر کا مطالبہ کرتا ہے۔عوامی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طاہر شاہ کو فوری طور پر معطل کر کے ایڈمنسٹریشن اور ڈی سی لیول پر انکوائری کرائی جائے۔اس کے اثاثے چیک کیے جائیں، اگر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا تو ساری کہانی سامنے آ جائے گی۔ اگر اس پر کوئی انکوائری یا لیگل ایکشن نہیں ہوتا تو یہی سمجھا جائے گا کہ طاہر شاہ کمپیوٹر آپریٹر نہیں بلکہ لودھراں کا ڈی سی ہے اور محکمہ صحت اس کی جاگیر ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں