محکمہ صحت لودھراں، اینٹی کرپشن کی فرینڈلی کارروائی، ڈی ایچ او سمیت بڑے نام بچ گئے، چھوٹوں کو ٹیکہ

ملتان (سٹاف رپورٹر) لودھراں محکمہ صحت میں اینٹی کرپشن کی حالیہ کارروائی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کی جا رہی ہےمگر اندرونی ذرائع نے اس سارے معاملے کو ایک’’مکمل سیٹنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ الزام ہے کہ کارروائی کے دوران اصل اور بااثر ملزمان کو بھاری رقوم کے عوض مبینہ طور پر چھوڑ دیا گیاجبکہ چھوٹے کرداروں کو گرفتار کر کے کارکردگی کا تاثر دیا گیا۔ تصدیق شدہ ذرائع اور فوٹیجز کے مطابق ڈی ایچ اوآفس لودھراں سے وابستہ لا آفیسر راؤ نوید کو جلہ آرائیں کے قریب سڑک پر اتار کر مبینہ طور پر’’ڈیل‘‘کی گئی جس کے بعد اسے باقاعدہ گرفتاری سے بچا لیا گیا۔ اسی طرح اس کیس کے مرکزی ملزم قرار دیئے جانے والے ڈاکٹر ریاض (ڈی ایچ او)جن کا نام ایف آئی آر میں بھی شامل بتایا جا رہا ہےکو مبینہ طور پر بھاری ڈیل کے بعد کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ تصدیق شدہ اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اینٹی کرپشن کی ٹیم نے دنیا پور میں چھاپے کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیامگر بعد ازاں’’ریٹ فکس‘‘ کر کے اصل کرداروں کو نکلنے کا راستہ فراہم کیا گیا۔ حیران کن طور پر اس مبینہ رعایت نے مرکزی ملزمان کو اتنا وقت دے دیا کہ وہ اپنی قبل از گرفتاری ضمانتیں کروانے میں کامیاب ہو جائیں۔ ادھر ایک اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ جن افراد کے خلاف سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں ان کا سرکاری پریس ریلیز میں کہیں ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ 25 مارچ 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں صرف دو افرادسلیمان سعید اور عدنان سعیدکی گرفتاری ظاہر کی گئی جبکہ اصل بااثر نام مکمل طور پر غائب رکھے گئے۔ ذرائع کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف شفافیت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اینٹی کرپشن کے اس دعوے کو بھی کمزور کرتا ہے کہ ’’بلا امتیاز کارروائی‘‘کی جا رہی ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر واقعی زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے تو پھر بڑے ناموں کو کیوں بچایا گیا؟ مزید برآں ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ واقعے کے بعد متعلقہ ڈی ایچ اوڈاکٹرریاض کو نہ صرف موقع فراہم کیا گیا بلکہ بعد ازاں اسے ہٹا کر ڈی ایچ کیوہسپتال ملتان کےڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرمحمدعظیم ریاض کوڈی ایچ اولودھراں تعینات کردیاگیاجسکانوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیاہے جس سے شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ کہیں یہ سارا معاملہ وقتی دباؤ کم کرنے کی حکمت عملی تو نہیں؟ عوامی و سماجی حلقوں نے اس معاملے پر فوری، غیرجانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واقعی اینٹی کرپشن کے ادارے کے اندر ہی ڈیل کلچرپروان چڑھ رہا ہے تو یہ پورے نظامِ احتساب کے لیے خطرناک علامت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکام ان سنگین الزامات کا نوٹس لے کر اصل حقائق سامنے لاتے ہیں یا یہ معاملہ بھی دیگر کئی کیسز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا۔دوسری جانب ملتان دنیاپور سے خصوصی رپورٹر،وقائع نگار اورکرائم رپورٹر کےمطابق ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان، بشارت نبی کی نگرانی میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اہم کارروائی عمل میں لائی گئی جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹیگیشن لودھراں عمران عارف سیال اور سرکل آفیسر سید علی حسن گیلانی نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لودھراں کے دفتر پر چھاپہ مارا اور پانچ ملازمین کو حراست میں لے لیا ، بتایا گیا ہے کہ گورنمنٹ ہسپتال لودھراں میں ادویات کی مد میں بڑے پیمانے پر خوردبرد کا انکشاف ہوا، جس کی ایف آئی آر نمبر 03/26 درج کی گئی اور ملزمان محمد منہاس،رشید اللہ، محمد رمضان جونیئر اکاؤنٹنٹ ڈی ایچ او آفس لودھراں،کاشف اسٹور کیپر ،راحیل خالد کو گرفتار کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں ، دوسرے چھاپے میں بھی ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹیگیشن لودھراں عمران عارف سیال اور سرکل آفیسر سید علی حسن گیلانی نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دنیا پور کے دفتر پر چھاپہ مارا اور یہ بات سامنے آئی کہ گورنمنٹ ہسپتال تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں میں ادویات کی مد میں بڑے پیمانے پر خوردبرد کی گئی۔ اس سنگین معاملے پر ایف آئی آر نمبر 03/26 درج کر کے ملزمان سلیمان سعید اور عدنان سعید کو گرفتار کرلیا گیا، مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے 2300 کال پول کی بوتلیں ، تین لاکھ ایماکسل کیپسول ، 48 ہزار اسپرول کی گولیاں خورد برد کیں، ملزمان ادویات ملتان سمیت مختلف شہریوں میں کارگو کروا کر فروخت میڈیکل سٹوروں کو فروخت کرتے تھے آگے میڈیکل سٹور مالکان مذکورہ ادویات کو من مانے نرخوں پر فروخت کرتے تھے ۔ ذرائع کے مطابق کیس میں مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں