ملتان (وقائع نگار) پنجاب کے محکمہ صحت پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرڈیپارٹمنٹ اورسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئرسمیت متعدد کیسز بارے مزیدانکشافات سامنے آئے ہیں ۔محکمہ صحت میں بدعنوانیاں ادویات کی خریداری، ٹینڈرز، جعلی بلز، تنخواہوں کی غیر قانونی ادائیگیاں اور صحت کارڈ پروگرام میں دھاندلی میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی (DHA) میں کرپشن: 2022-2023 کے دوران تقریباً 66 ملین روپے کی بدعنوانی کے الزامات پر تفتیش ہوئی۔ آڈٹ رپورٹس میں ادویات کی مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر خریداری، PPRA قوانین کی خلاف ورزی، اور غیر ضروری اشیاء کی خریداری سامنے آئی۔ ایک سابق خاتون CEO اور دیگر افسران ملوث تھے۔ ایک افسر کو تفتیش کے باوجود پروموشن بھی مل گئی تھی۔میو ہسپتال لاہور میں 800 ملین روپے کا کیس: 2022 میں اینٹی کرپشن نے 7 ڈاکٹروں اور 4 دیگر افسران کے خلاف 800 ملین روپے کی خرد برد کا مقدمہ درج کیا۔میانوالی ہیلتھ CEO کا کیس: 2022 میں تقریباً 60 ملین روپے کی خورد برد اور فراڈ کے الزام میں CEO کو معطل کیا گیا۔سینئر کلرک محمد نواز کا 33 کروڑ کا سکینڈل: 2022 میں راجن پور سے گرفتار، محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف ہوا۔صحت سہولت کارڈمیں دھاندلی: 2023 میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے انکشافات، جعلی ادائیگیاں، غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں کو فنڈز، اور اربوں روپے کا نقصان۔ ایک رپورٹ میں ایک دن میں 26 کروڑ روپے کے اخراجات کا ذکر تھا۔ہسٹوپیتھالوجی لیب میں سٹینٹ سکینڈل اور ادویات ٹیسٹنگ لیب میں بدعنوانیپرائیویٹ فرموں سے غیر قانونی ٹرانزیکشنز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مبینہ کرپشن۔یہ کیسز NAB، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) پنجاب، اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں سامنے آئے۔ کئی بار تفتیشی کمیٹیاں بنیں مگر نتیجہ نکلنا مشکل رہا۔ حالیہ برسوں میں بھی (2024-2025) 500 سے زائد ملازمین کو کروڑوں کی کرپشن میں ملوث قرار دیا گیا اور PTI دور کے 18 کیسز دوبارہ کھولے گئے۔یہ سب الزامات عوامی صحت کے نظام کو کمزور کرتے ہیں، جہاں ہسپتالوں میں ادویات اور سہولیات کی کمی رہتی ہے جبکہ وسائل کی لوٹ مار جاری رہتی ہے۔ حکومتوں نے وقتاً فوقتاً نوٹس لیے، معطلیاں کیںمگر مکمل شفافیت اور احتساب اب تک چیلنج بنا ہوا ہے۔







